جمعہ، 20-ستمبر،2024
جمعہ 1446/03/17هـ (20-09-2024م)

آم کو کھانے سے پہلے بھگونے کے حیرت انگیز فائدے سامنے آگئے

10 مئی, 2022 15:53

پھلوں کے بادشاہ آم کا سیزن بس آنے کو ہے اور لوگ اس کے بھرپور ذائقے سے لطف اندوز ہونے کے لیے تیار بیٹھے ہیں، آم وٹامن سی اور وٹامن اے کا بہترین ذریعہ ہے۔ پھل میں فولیٹ، وٹامن کے، وٹامن ای اور متعدد وٹامنز بھی ہوتے ہیں جو ہماری مجموعی صحت پر مثبت اثر ڈالتے ہیں۔

 

بہت سے لوگوں کو آپ نے دیکھا ہوگا کہ آم کو کھانے سےپہلے وہ اسے بھگوتے ہیں،یہ عمل صرف گندگی اور کیمیکلز سے نجات دلانے کے لیے نہیں ہے بلکہ اس کی بنیادی سائنسی وجوہات بھی ہیں جو آپ کی صحت کو متاثر کر سکتی ہیں۔

 

آم کو پانی میں بھگونے کے فوائد یہ ہیں  :

فائٹک ایسڈ سے چھٹکارا ملتا ہے:

 

آم میں ایک قدرتی مالیکیول پایا جاتا ہے جسے فائٹک ایسڈ کہا جاتا ہے جو کہ ایک اینٹی نیوٹرینٹ سمجھا جاتا ہے۔ فائٹک ایسڈ ان غذائی اجزاء میں سے ایک ہے جو صحت کے لیے اچھے اور برے دونوں ہو سکتے ہیں۔

فائٹک ایسڈ آئرن، زنک اور کیلشیم جیسے معدنیات کے جذب کو روکتا ہے، اس طرح معدنیات کی کمی کو فروغ دیتا ہے۔ جب آم کو چند گھنٹوں کے لیے پانی میں بھگو کر رکھا جائے تو یہ پھل سے اضافی فائٹک ایسڈ کو نکالنے میں مدد کرتا ہے۔

 

یہ پڑھیں  : بواسیر کا گھریلو علاج

 

بیماریوں سے بچاتا ہے:

 

آم کو پانی میں بھگونا ضروری ہے تاکہ ان کی حفاظت کے لیے فصلوں پر استعمال ہونے والے کیڑے مار ادویات کو دور کیا جا سکے۔ یہ زہریلے ہیں اور سانس کی نالی میں جلن، الرجک حساسیت، آنکھوں اور جِلد کی جلن کا سبب بن سکتے ہیں۔

یہ ممکنہ طور پر کینسر کے خلیوں کی نشوونما کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔

 

آم کی گرمی کو ٹھنڈا کرنا:

 

آم جسم میں حرارت پیدا کرتے ہیں جس کے نتیجے میں تھرموجنیسیس پیدا ہوتا ہے۔ زیادہ مقدار میں اس کا استعمال زیادہ گرمی کا سبب بن سکتا ہے، آم کو پانی میں بھگونے سے ان کی تھرموجینک خصوصیات کو کم کرنے میں مدد ملے گی، جو کہ ہاضمہ کے مسائل کو ختم کرتا ہے۔

 

آموں کو کب تک بھگونا چاہیے؟

 

اگر آپ کو جلدی ہے تو آپ آموں کو 15سے 30 منٹ تک پانی میں بھگو کر رکھ سکتے ہیں۔ بصورت دیگر، یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ انہیں 1 سے 2 گھنٹے تک بھگونے دیں۔

مزید یہ کہ انہیں زیادہ دیر تک بھگونے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ کافی وقت تک بھگونے کے بعد، آموں کو پانی سے نکال دیں، انہیں ٹھنڈا ہونے دیں۔

 

نوٹ :  اس متعلق اپنے معالج سے مشورہ ضرور لیجئے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Scroll to Top