منگل، 21-مئی،2024
( 13 ذوالقعدہ 1445 )
منگل، 21-مئی،2024

EN

سور کے گردے کا ٹرانسپلانٹ کرانے والا شخص چل بسا

12 مئی, 2024 15:09

امریکا میں سور کے گردے کا ٹرانسپلانٹ کرانے والا شخص 2 ماہ بعد انتقال کر گیا جب کہ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ مریض کی موت کی وجہ کچھ اور ہے۔

اس وقت ماہرین کا ماننا تھا کہ یہ گردہ کم از کم 2 سال تک کام کرتا رہے گا، اب ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ گردے کے ٹرانسپلانٹ کی وجہ سے مریض کی موت نہیں ہوئی بلکہ انتقال کی وجہ کچھ اور ہے۔

رچرڈ سلے مین دنیا کے پہلے زندہ شخص تھے جن کے جسم میں سور کے گردے کی پیوند کاری کی گئی تھی، اس سے پہلے سور کے گردوں کی پیوند کاری دماغی طور پر مردہ مریضوں میں تجربے کے طور پر کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:غزہ پر اسرائیلی فضائی حملے میں 2 ڈاکٹر شہید ہوگئے

رچرڈ سلے مین کے گردے کا ٹرانسپلانٹ 2018 میں بھی ہوا تھا مگر 2023 میں وہ فیل ہونے لگا تو ڈائیلاسز کا عمل پھر شروع ہوگیا، مختلف پیچیدگیوں کے باعث ڈائیلاسز بار بار کرانے پر ڈاکٹروں نے سور کے گردے کی پیوند کاری کو تجویز کیا۔

رچرڈ سلے مین کے خاندان نے ایک بیان میں ڈاکٹروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بدولت ہمیں رچرڈ سلے مین کے ساتھ مزید کچھ عرصہ رہنے کا موقع ملا۔

خیال رہے کہ میساچوسٹس جنرل ہسپتال کے ماہرین نے 62 سالہ مریض میں مارچ 2024 میں سور کے جینیاتی طور پر تدوین شدہ گردے کی پیوندکاری کی تھی۔

جنوری 2022 میں 57 سالہ ڈیوڈ بینیٹ دنیا کے پہلے انسان بنے تھے جن میں جینیاتی طور پر تبدیل شدہ سور کا دل لگایا گیا تھا تاہم ڈیوڈ بینیٹ آپریشن کے 2 ماہ بعد انتقال کرگئے تھے۔

اسی طرح یونیورسٹی آف میری لینڈ سکول آف میڈیسن کے ماہرین نے 58 سالہ امریکی مریض میں 20 ستمبر 2023 میں سور کے جینیاتی طور پر تدوین شدہ دل کی پیوندکاری کی تھی لیکن آپریشن کے لگ بھگ 6 ہفتے بعد لارنس فیوکٹ نامی 58 سالہ مریض ہارٹ فیلیئر کے باعث چل بسا تھا۔

دی یو ایس سن کے مطابق سلیمن کو سرجری کے چند ہفتوں بعد 6 اپریل کو بوسٹن کے میساچوسٹس جنرل اسپتال سے فارغ کیا گیا تھا۔ اسپتال کی ٹرانسپلانٹ ٹیم کا کہنا ہے کہ اس وقت اس بات کا کوئی ثبوت نہیں مل رہا ہے کہ ان کی موت کا تعلق پیوند کاری سے ہے۔

ماس جنرل ٹرانسپلانٹ ٹیم نے ایک بیان میں کہا کہ وہ رک سلیمین کے اچانک انتقال پر انتہائی افسردہ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا: ‘ہمیں اس بات کا کوئی اشارہ نہیں ہے کہ یہ ان کی حالیہ پیوند کاری کا نتیجہ تھا۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Scroll to Top