بدھ، 19-جون،2024
( 13 ذوالحجہ 1445 )
بدھ، 19-جون،2024

EN

آئندہ مالی سال کیلئے کھربوں روپے کے ترقیاتی اخراجات کی منظوری

11 جون, 2024 13:30

قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کے اجلاس میں آئندہ مالی سال کے لیے 3.792 ٹریلین روپے کے مجموعی ترقیاتی اخراجات کی منظوری دی گئی ہے جو رواں مالی سال کے وفاقی پی ایس ڈی پی کے 950 ارب روپے کے مقابلے میں 57 فیصد اضافے کے ساتھ 3.792 ٹریلین روپے ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے قومی اقتصادی کونسل اجلاس میں کونسل نے سالانہ پلان برائے 25-2024 کی منظوری تیرھویں پانچ سالہ منصوبے پر تفصیلی غور کے بعد منظوری دی گئی۔

ذرائع کے مطابق مالی سال 25-2024 کی پبلک انوسٹمنٹ پر بھی غور کیا گیا جب کہ اجلاس میں ایکنیک کی پیشرفت رپورٹ اور سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کی اب تک پیشرفت رپورٹ کا جائزہ بھی لیا گیا جب کہ قومی اتقصادی کونسل نے تمام صوبوں کی جانب سے متفقہ طور پر ایجنڈے کی منظوری دی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں صوبائی وزرائے اعلیٰ کے علاوہ صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقی اور وزیراعلیٰ کے مشیر نے آئندہ مالی سال کے لیے 1.5 ٹریلین روپے کے وفاقی پی ایس ڈی پی کی منظوری دی ہے جس میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور ایس او ایز کی 196 ارب روپے کی سرمایہ کاری اور 2.095 ٹریلین روپے کے صوبائی سالانہ ترقیاتی منصوبے شامل ہیں۔

این ای سی سے منظور ہونے والے صوبوں کے صوبائی اے ڈی پیز میں پنجاب 700 ارب روپے، سندھ 764 ارب روپے، خیبر پختونخوا 351 ارب روپے اور بلوچستان 281 ارب روپے شامل ہیں۔

وفاقی پی ایس ڈی پی میں بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے لیے 824 ارب روپے، سماجی شعبے کے لیے 280 ارب روپے، خصوصی علاقوں کے لیے 75 ارب روپے، ضم شدہ اضلاع کے لیے 64 ارب روپے، آئی ٹی کے لیے 79 ارب روپے، گورننس کے لیے 28 ارب روپے، پیداواری شعبے کے لیے 50 ارب روپے، خوراک و زراعت کے لیے 42 ارب روپے اور صنعتوں کے لیے 8 ارب روپے مختص کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔

اجلاس میں آئندہ مالی سال کے لیے 3.6 فیصد شرح نمو کے ہدف کی منظوری دی گئی جس کی بنیاد زرعی شعبے میں 2 فیصد، صنعتی شعبے میں 4.4 فیصد اور خدمات کے شعبے میں 4.1 فیصد ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 

آئندہ بجٹ میں درآمدی موبائل فونز پر ٹیکس بڑھانے کا امکان

بجٹ 2024-25: ترقیاتی منصوبوں اور خلائی مشن کیلئے سپارکو کا فنڈ بڑھانے کا فیصلہ

مالی سال 2024-25 کے لئے مجموعی سرمایہ کاری اور جی ڈی پی کا تناسب 14.2 فیصد اور فکسڈ سرمایہ کاری 12.5 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے جبکہ 2024-25 کے لئے قومی بچت جی ڈی پی کا 13.3 فیصد ہے۔

آئندہ مالی سال کے دوران افراط زر کی شرح معتدل ہو کر 12 فیصد رہنے کی توقع ہے جبکہ 2024-25ء میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اضافے کا امکان ہے کیونکہ شرح نمو کے مقاصد کے حصول بالخصوص صنعتی شعبے کی بحالی کے لیے درآمدی پابندیوں میں مزید نرمی کی جائے گی۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Scroll to Top