پیر، 22-اپریل،2024
( 12 شوال 1445 )
پیر، 22-اپریل،2024

EN

عدالتی اُمور میں اداروں کی مداخلت پر جوڈیشل کنونشن کیوں نہیں بلایا جارہا؟

29 مارچ, 2024 16:47

اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججوں کی جانب سے عدالتی معاملات میں خفیہ اداروں کی مداخلت کے الزامات پر حکومت نے کمیشن بنانے کا اعلان کر دیا ہے۔

وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بدھ کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے ملاقات کی جس میں ججوں کے خط کا معاملہ زیرِ بحث آیا، وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ کمیشن آف انکوائری ایکٹ کے تحت معاملے کی تحقیقات کرائی جائیں گی اور نیک نام شخصیت کمیشن کی سربراہی کرے گی، اس حوالے سے کمیشن کے قیام کیلئے معاملہ جمعے کو وفاقی کابینہ کے سامنے رکھا جائے گا۔

واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججز نے سپریم جوڈیشل کونسل کو ارسال کردہ ایک خط میں مطالبہ کیا تھا کہ خفیہ اداروں کی جانب سے ججز پر اثر انداز ہونے اور مداخلت کے معاملے پر جوڈیشل کنونشن بلایا جائے۔

خط لکھنے والے ججز میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس بابر ستار، جسٹس طارق جہانگیری، جسٹس سردار اعجاز اسحٰق، جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز شامل ہیں۔

قانون کو پیشہ اختیار کرنے والوں  سمیت ایک عام پاکستانی کو توقع تھی کہ سپریم کورٹ کے فل بیچ اجلاس میں اعلیٰ عدلیہ کے چھ ججوں کا جوڈیشل کنویشن بلانے کا مطالبہ تسلیم کرلیا جائے گا، عدالتی اُمور کی انجام دہی میں اداروں کی مداخلت کو اسی طرح روکا جاسکتا ہے، بحیثیت ادارہ عدلیہ کے وقار کو بحال کرانے کیلئے یہ بہترین موقع ہے اور اُمید کی جانی چاہیئے کہ اعلیٰ عدلیہ کے محترم ججز یکسو ہوکر ملکی مفاد میں فیصلہ کرئں گے۔

خفیہ اداروں کی مداخلت پر معترضین ججز کے مطالبے پر جوڈیشل کنویشن نہیں بلایا گیا تو لوگوں کے اذہان میں ضرور سوالات اُٹھیں گے اور حکومت کی نیت پر بھی شک و شبہات کئے جائیں گے، وفاقی حکومت کو چاہیئے کہ وہ جوڈیشل کنویشن کی مخالفت نہیں کرئے کیونکہ انکوئری کمیشن سنگین مسئلے کو ہلکا کرنے کے مترادف ہے۔

وفاقی وزیرِ قانون اعظم تاڑر کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے سابق ججز میں سے کسی ایک کو انکوائری سونپی جائے گی، اعظم  تاڑر کے مطابق گزشتہ روز سپریم کورٹ آف پاکستان کے فل کورٹ اجلاس میں متذکرہ معاملے پر ازخود نوٹس لینے یا وفاقی حکومت سے کمیشن آف انکوائری بنانے کا کہا گیا تھا۔

ججز کی جانب سے عدالتی امور میں خفیہ اداروں کی مداخلت کے الزامات کوئی نیا معاملہ نہیں، اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ کے ہی سابق جج شوکت عزیز صدیقی نے 2018 میں راولپنڈی بار ایسوسی ایشن میں اپنے خطاب میں خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے افسران پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ عدالتوں پر اثرانداز ہوتے ہیں اور اپنے من پسند فیصلوں کے لئے بینچ تشکیل دینے کے معاملات میں مداخلت کرتے ہیں۔

اس تقریر کے بعد شوکت عزیز صدیقی کو ججز کے ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دے کر اکتوبر 2018 میں عہدے سے برطرف کر دیا گیا تھا، سپریم کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے رواں ماہ 22 مارچ کو ہی اپنے ایک فیصلے میں جسٹس شوکت صدیقی کی برطرفی کو غلط قرار دیا فیصلے میں لکھا کہ بدقسمتی سے فیصلے میں تاخیر کی وجہ سے جسٹس شوکت عزیز صدیقی ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچ گئے ہیں۔

ججوں پر آئی ایس آئی کے آپریٹو کی جانب سے رشتہ داروں اور دوستوں کے ذریعے دباؤ ڈالنے کا معاملہ اس سے قبل بھی چیف جسٹس آف پاکستان کے سامنے رکھا گیا تھا، جس کے بعد چیف جسٹس نے کہا کہ انہوں نے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل سے بات کرلی ہے، آئندہ ایسا نہیں ہوگا لیکن پھر بھی مداخلت کا سلسلہ رک نہ سکا۔

جمعرات کی دوپہر وزیراعظم شہباز شریف نے سپریم کورٹ کی عمارت میں چیف جسٹس آف پاکستان سے ملاقات کی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور  وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان مسکراہٹوں کے تبادلے کے بعد سب سے پہلے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججز کی جانب سے آئی ایس آئی کی عدالتی اُمور میں مداخلت سے متعلق خط پر مستقبل کے لائحہ عمل پر غور شروع ہوا، یقیناً یہ مسئلہ سنجیدہ ہے اس سے ملک کے نظام انصاف کا معاملہ جڑا ہوا ہے ممکنہ طور پر دونوں طرف سے تجاویز آئی ہونگی۔

وفاقی وزیر قانون مطابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بھی انکوائری کمیشن پر رضا مندی ظاہر کی ہے، چیف جسٹس نے اپنے آپشن بھی بتائے ہوں گے، جوڈیشل کنونشن بلانے کی درخواست تو پہلے ہی متاثرہ ججز کرچکے ہیں جبکہ سپریم کورٹ کے فل کورٹ اجلاس میں ججز نے ازخودنوٹس لینے کی تجویز کی حمایت کی ہے، ابھی تک سپریم کورٹ کے فل کورٹ اجلاس کا اعلامیہ جاری نہیں ہوا ہے، ممکن ہے کہ وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ سے غیر رسمی طور پر درخواست کی ہو کہ وزیراعظم شہباز شریف کی چیف جسٹس سے ملاقات تک فل کورٹ اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کو موخر کردیا جائے۔

وفاقی کابینہ کا اجلاس جمعہ کو اسلام آباد میں منعقد ہوگا جس میں ہائیکورٹ کے ججز کے خط کے تناظر میں انکوئری کمیشن کو تشکیل دیئے جانے کی قوی اُمید ہے جو ججز کے آئی ایس آئی پر لگائے  گئے الزامات کی چھان بین کرئے گی تقریباً دو دن ہونے کے باوجود وفاقی حکومت کا رویہ اس معاملے کو نظرانداز کرنے کی جانب جھکا ہوا ہے۔

لگتا ایسا ہے کہ موجودہ وفاقی حکومت پاکستان کے نظام انصاف میں خفیہ ایجنسیوں کی مداخلت کو اہمیت دینے کے بجائے اس کی سنگینی کو کم کرنے اور دبابے کی کوششوں میں مصروف ہے پھر یہ کہ وفاقی وزیر قانون کی جانب سے ججز کے خط کے تناظر میں پیدا ہونے والے بحران کو ادارہ جاتی منافرت سے تعبیر کرنا بھی اس جانب واضح اشارہ ہے، جو نامناسب بلکہ قابل گرفت بات ہے۔

وفاقی حکومت کی پہلی ترجیح پاکستان کے نظام انصاف کو ہر قسم کے خلل سے پاک رکھنا اہم ذمہ داری ہونی چاہیئے، یہاں اپنے یا کسی ادارے کے مخصوص مفادات کو پیش نظر رکھ کر فیصلے کرنا ملکی مفاد کے خلاف ہوگا، یہ درست ہے کہ میاں شہباز شریف کا خاندان اور اِن کی جماعت نظام انصاف میں بیرونی مداخلتوں سے فائدہ اُٹھا چکی ہے، پاکستان میں بیرون ملک سے سرمایہ کاری لانے کے منصوبے بنائے جارہے ہیں، ایسے میں پاکستان کے تمام مقتدر افراد کو یہ سمجھنا چاہیئے کہ نظام انصاف کو مستحکم بنائے بغیر بیرونی سرمایہ کاری کی کوششیں بارآور ثابت نہیں ہوسکتیں۔

نوٹ: جی ٹی وی نیوز  اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے اتفاق کرنا ضروری نہیں۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Scroll to Top