بدھ، 24-اپریل،2024
( 15 شوال 1445 )
بدھ، 24-اپریل،2024

EN

اسرائیل کو امریکی فوجی امداد جنگ بندی میں رکاوٹ کا سبب

17 مارچ, 2024 14:38

اقوام متحدہ کے ماہرین بین ساؤل، مارگریٹ سیٹرتھویٹ، سیسی لیا ایم بیلیئٹ، فریدہ شاہد اور دیگر نے کہا ہے کہ اسرائیل کوعالمی سطح پر ہتھیاروں یا گولہ بارود کی کسی بھی قسم کی منتقلی اور برآمد کو جو کہ غزہ میں استعمال کی جائے گی فوری طور روک دی جائے کیونکہ اسرائیل کو فراہم کردہ اسلحہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کا موجب بن رہا ہے۔

 ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو اسلحہ فراہم کرنے والے ممالک 1949ء کے جنیوا کنویشنز کی خلاف ورزی کے مرتلب ہورہے ہیں ، ماہرین نے 12 فروری 2024 کو ایک ڈچ اپیل کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا جس میں نیدرلینڈ کو اسرائیل کو ایف 35 لڑاکا جیٹ کے پرزوں کی برآمد روکنے کا حکم دیا گیا تھا، عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا ہےکہ اس بات کا واضح خطرہ موجود ہے کہ اسرائیل اِن پُرزوں کی فراہمی بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزیوں کے ارتکاب یا سہولت کاری کا موقع فراہم کرئے گی، کیونکہ ایسے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں کہ اسرائیل نے غزہ میں جنگ کے دوران انسانی قانون کی غیر معمولی طور پر خلاف ورزی کی ہے، غزہ جنگ میں اسرائیل کی جانب سے شہریوں کو نشانہ بنانے کے واضح شواہد کے بعد ہتھیار برآمدکرنے والے ملکوں کے پاس قانونی جواز موجود ہے کہ وہ اسرائیل کو ہتھیاروں اور پُرزجات کی فراہمی روک دیں، اقوام متحدہ کے ماہرین نے بیلجیم، اٹلی، اسپین، ہالینڈ اور جاپانی کمپنی اتوچو کارپوریشن کی جانب سے اسرائیل کو ہتھیاروں کی منتقلی کی معطلی کا خیر مقدم کیا ، یورپی یونین نے بھی حال ہی میں اسرائیل کو ہتھیاروں کی برآمد کی حوصلہ شکنی کی تاہم اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی پر مکمل بندش نہیں لگائی ہے۔
اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل کی ہتھیاروں کی ضرورت پوری کرنے والے سب سے بڑے برآمد کنندگان امریکہ اور جرمنی ہیں اور 7 اکتوبر 2023ء کے بعد سے اِن دونوں ملکوں کی جانب سے اسرائیل کو پتھیاروں کی ترسیل میں اضافہ ہوا ہے،دیگر فوجی برآمد کنندگان میں فرانس، برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا شامل ہیں جو اسرائیل کو ہتھیار اور پرزہ جات فراہم کررہے ہیں، امریکہ تاریخی طور پر اسرائیل کا کلیدی اتحادی رہا ہے اور اس نے اسرائیل فلسطین تنازعہ میں ہمیشہ اسرائیل کا ساتھ دیا ہےامریکہ نے فلسطینیوں اور لبنانیوں کے خلاف اسرئیل کی جانب سے طاقت کے استعمال کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کی ہے، امریکہ کی اسرائیل سے یاری کا مطلب یہ نہیں سمجھناچاہیئے کہ امریکہ یہودی ریاست یا بیت المقدس سے کوئی دلچسپی ہے بلکہ وہ عربوں اور اسرائیل کےجغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے اس ناجائز اور غیرقانونی ریاست کو باقی رکھنا چاہتا ہے، غزہ میں انسانی حقوق کی سنگین خلاد ورزیوں اور قحط زدہ علاقے رفح پر حملہ کرنے کی خواہش کے باوجود امریکہ غاصب اسرائیل کو مسلسل ہتھیار اور گولہ بارود فراہم کررہا ہے، وال سٹریٹ جرنل کے مطابق امریکہ کی جانب سے اسرائیل کو اسلحے کی مجوزہ ترسیل میں تقریباً ایک ہزار ایم کے 500 پاؤنڈ (227 کلوگرام) کے بم اور ایم یو 572 جوائنٹ ڈائریکٹ اٹیک گولہ بارود شامل ہیں جو بغیر رہنمائی والے گولہ بارود کو درست رہنمائی والے بموں میں تبدیل کر دیتے ہیں، اس کے علاوہ امریکہ مزید ایف ایم یو 139 بم فیوز اسرائیل کو برآمد کررہا ہے، جس کی کل کھیپ کا تخمینہ دسیوں ملین ڈالر ہے، جو اسرائیل کو امریکی فوجی امداد سے ادا کیا جارہا ہے۔
امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ اب تک دو مرتبہ کانگریس کو نظرانداز کرکے اسرائیل کیلئےفوجی امداد جن میں بم اور دیگر جنگی سازوسامان شامل ہے بھیج چکے ہیں، جس سے 31,000 سے زیادہ فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر بچے اور خواتین ہیں، اور دسیوں ہزار زخمی ہیں یا لاپتہ ہیں، ڈبلیو ایس جے کے مطابق، امریکہ نے گزشتہ اکتوبر میں جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک اسرائیل کو تقریباً 21,000 گائیڈڈ گولہ بارود فراہم کیا ہے، جو کہ 19 ہفتوں تک غزہ پر بمباری جاری رکھنے کے لیے کافی ہیں، غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے بعدامریکہ نے مشرقی بحیرہ روم میں جنگی جہاز اور فوجی طیارے بھیجنے اور اسرائیل کو گولہ بارود اور فوجی ساز و سامان کی فراہمی شروع کی، صدر جو بائیڈن نےاسرائیل کیلئے 14 بلین ڈالر کی فوجی امداد منظور کرائی، برطانوی اخبار دی گارڈین نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ یوکرین کے لئے امریکہ کی فوجی مدد کے برعکس، اسرائیل کو بھیجے گئے ہتھیاروں کی تفصیلات مبہم رکھی جارہی ہیں، گارڈین کےایک انکشاف میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ نے گزشتہ ماہ اسرائیل کی درخواست پر لیزر گائیڈڈ میزائل، 155 ایم ایم گولے، نئی بگتر بند بم پروف فوجی گاڑیاں اور دیگراسلحہ بھیجا ہے۔

امریکہ نے گذشتہ برسوں میں اسرائیل کو خاطر خواہ فوجی امداد فراہم کی ہے جبکہ بین الاقوامی فورمز پر سفارتی طور پر اسرائیل کی مدد کی ہے، اس امریکی حمایت نے غزہ میں اسرائیل کو فلسطینیوں کی نسل کشی کرنے کا حوصلہ دیا ہے، امریکہ کی موجودہ بائیڈن انتظامیہ کو اندررونی طور پر بھی اسرائیلی حمایت کرنے کی قیمت چکانا پڑ رہی ہے، امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے سینئر اہلکار جوش پال جو اسلحہ برآمد کرنے کے ماہر سمجھے جاتے ہیں، اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے کیونکہ بائیڈن انتظامیہ امریکی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسرائیل کو فوجی مدد فراہم کررہے ہیں ، غزہ جنگ کے آغاز کے بعد سے امریکہ نے تل ابیب حکومت کو 10,000 ٹن سے زیادہ فوجی سازوسامان بھی فراہم کیا ہے، واشنگٹن پوسٹ نے اس ماہ کے شروع میں ایک رپورٹ میں کہا کہ امریکہ نے غزہ جنگ کے آغاز کے بعد خاموشی سے اسرائیل کو 100 سے زیادہ مرتبہ ہتھیاروں کی فروخت کی اجازت دی ہے۔
واشنگٹن کی حمایت سے فلسطینیوں کی نسل کشی کو تاریخ کبھی فراموش نہیں کرئے گی ، فلسطینیوں کی نسل کشی کی بابت جب بھی اسرائیل کا ذکر ہوگا امریکہ اور جوبائیڈن انتظامیہ کا نام ضرور لیا جائے گا،امریکہ اسرائیل کی فوجی مدد بند کردے اسرائیل دوسرے ہی دن جنگ بندی کا یکطرفہ اعلان کردے گا،امریکی انتظامیہ مگرمچھ کے آنسوبہا رہا ہے، امریکہ نے اب تک اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جنگ بندی کیلئے تین قراردادوں کو ویٹو کر دیا ہے، امریکی اسرائیل کے مشترکہ اسٹریٹجک اہداف ہیں، بس ترجیحات کے حوالے سے اختلاف ہے، عام شہریوں کو مارے جانے پر عام امریکی شہری شور مچاتا ہے مگر وہ تو امریکی ہتھیاروں اور بموں سے مارے جا رہے ہیں جنگ زدہ علاقے میں انسانی امداد کی فراہمی جب امریکی انتظامیہ بات کرتی ہے اور ہوائی جہازوں کے ذریعے تھوڑی بہت امداد گراتی ہےجس کا مقصد اپنے ملک کی عوام اور بین الاقوامی برادری کو گمراہ کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔

نوٹ: جی ٹی وی نیوز  اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے اتفاق کرنا ضروری نہیں۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Scroll to Top