منگل، 21-مئی،2024
( 13 ذوالقعدہ 1445 )
منگل، 21-مئی،2024

EN

ٹک ٹاک نے امریکی قانون کو عدالت میں چیلنج کردیا

08 مئی, 2024 14:55

ٹک ٹاک انتظامیہ نے امریکا میں ٹک ٹاک ایپ پر پابندی لگانے والے قانون کو بلاک کرنے کے لیے مقدمہ دائر کر دیا ہے۔

خبر رساں ادارہ بی بی سی کے مطابق منگل کو ٹک ٹاک کی جانب سے ڈی سی سرکٹ کورٹ آف اپیلز میں جمع کرائی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ قانونی، تجارتی اور تکنیکی طور پر ایپ کی فروخت کی شرط ممکن نہیں ہے۔

ٹک ٹاک کی جانب سے دائر درخواست میں امریکی اقدام سے  کمپنی اور اس کے 170 ملین امریکی صارفین کے اظہار رائے کی آزادی کے حقوق پر غیر معمولی مداخلت قرار دیا ہے۔

درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ امریکہ نے اس اقدام کو جواز فراہم کرنے کے لئے صرف "قیاس آرائیوں کے خدشات” پیش کیے تھے اور عدالت سے اسے روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔

واشنگٹن میں کئی سالوں سے جاری دعویٰ کیا جار ہا ہے کہ ٹک ٹاک کی چینی ملکیت سے یہ خطرہ بڑھ جاتا ہے کہ امریکی صارفین کا ڈیٹا چینی حکومت کے ہاتھوں میں جا سکتا ہے یا اسے پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب ٹک ٹاک اتنظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ حکومت سے آزاد ہے جبکہ پیرنٹ کمپنی بائٹ ڈانس کا کہنا ہے کہ اس کا کاروبار فروخت کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

چینی حکومت نے اس قانون پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ ایک غیر ملکی فرم کو ‘دھمکانے’ کی کوشش کر رہا ہے اور اس نے اشارہ دیا ہے کہ وہ اس کی فروخت کی مخالفت کرے گی۔

منگل کو صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرین جین پیئر نے کہا کہ یہ قانون پابندی نہیں ہے بلکہ یہ ایک تقسیم ہے۔

امریکی قانون کے مطابق ایپ اسٹورز کو جنوری 2025 سے امریکا میں ٹک ٹاک پیش کرنے سے روک دیا جائے گا جب تک کہ پیرنٹ کمپنی بائٹ ڈانس کو خریدار نہ مل جائے۔ اگر مذاکرات میں پیش رفت ہوتی ہے تو صدر بائیڈن اس ڈیڈ لائن میں 90 دن کی توسیع کر سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ صدر جو بائیڈن نے گزشتہ ماہ قومی سلامتی کے جواز کا حوالہ دیتے ہوئے امریکا میں ٹک ٹاک پر پابندی سے متعلق بل پر دستخط کیے تھے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Scroll to Top