بدھ، 17-اپریل،2024
( 08 شوال 1445 )
بدھ، 17-اپریل،2024

EN

ٹک ٹاک ایک خطرہ ہے مگر کچھ بچے اس کے بغیر پاگل ہوسکتے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

12 مارچ, 2024 13:09

امریکا کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز ٹک ٹاک کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے دیا۔

ایک بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ مقبول ایپ پر پابندی سے کچھ بچوں کو نقصان پہنچے گا اور صرف میٹا پلیٹ فارمز یعنی فیس بُک، انسٹاگرام وغیرہ کو تقویت ملے گی۔

ٹرمپ نے اپنے خدشات کا اعادہ اس وقت کیا جب قانون ساز رواں ہفتے ایک بل پر غور کر رہے ہیں جس کے تحت ٹک ٹاک کے چینی مالک بائٹ ڈانس کو امریکیوں کی جانب سے استعمال کی جانے والی مختصر ویڈیو ایپ کو فروخت کرنے کے لیے تقریبا چھ ماہ کا وقت دیا جائے گا۔

امریکی ایوان نمائندگان میں بدھ کے روز فاسٹ ٹریک قوانین کے تحت ووٹنگ ہوگی جس کے تحت دو تہائی ارکان کو اس اقدام کی منظوری کے لیے ‘ہاں’ میں ووٹ دینا ہوگا۔

ٹک ٹاک نے پیر کی رات کانگریس کو لکھے گئے ایک خط میں کہا کہ یہ "چینی حکومت کی ملکیت یا کنٹرول میں نہیں ہے” اور دلیل دی کہ اگر کمپنی کو فروخت کیا جاتا ہے تو ایک اور خریدار امریکی ڈیٹا کے تحفظ کے لئے ٹک ٹاک کی 1.5 بلین ڈالر کی کوشش جاری نہیں رکھے گا۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ ستم ظریفی یہ ہے کہ امریکی صارفین کا ڈیٹا تقسیم کی اسکیم کے تحت کم محفوظ ہو سکتا ہے۔

خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق دو ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آئی، محکمہ انصاف اور ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس کا دفتر منگل کو ایوان نمائندگان کے ارکان کے لیے ایک خفیہ بریفنگ منعقد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کرس رے نے پیر کے روز ایک سماعت کے دوران ٹک ٹاک کے بارے میں خدشات کا اعادہ کیا۔

ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ٹک ٹاک پر پابندی سے نوجوان متاثر ہوسکتے ہیں، بہت سے نوجوان اور بچے اس کا استعمال کرتے ہیں جو اس کے بغیر پاگل ہوجائیں گے، البتہ ٹک ٹاک پر برائیوں کے ساتھ بہت ساری اچھی چیزیں بھی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹک ٹاک کے سی ای او شو زی چیو رواں ہفتے کے اواخر میں کیپیٹل ہل کا دورہ کریں گے جہاں وہ سینیٹرز سے بات چیت کریں گے۔

خیال رہے کہ 2020 میں ٹرمپ نے ٹک ٹاک اور چینی ملکیت یافتہ وی چیٹ پر پابندی لگانے کی کوشش کی تاہم عدالتوں نے انہیں روک دیا تھا۔

 

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Scroll to Top