منگل، 21-مئی،2024
( 13 ذوالقعدہ 1445 )
منگل، 21-مئی،2024

EN

لگتا ہے دھرنا کمیشن کا کام فیض حمید کا نام کلیئر کرنا تھا، چیف جسٹس

06 مئی, 2024 14:42

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کلگتا ہے فیض آباد دھرنا کمیشن کا کام صرف فیض حمید کے نام کو کلیئرنس دینا تھا۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ فیض آباد دھرنا نظر ثانی کیس کی سماعت کر رہا ہے۔

اس موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ آگے بھی پڑھیں پاکستان بنتا کیسے ہے اور تباہ کیسے کیا جاتا ہے، اس کمیشن نے ہمارا وقت کیوں ضائع کیا۔

اٹارنی جنرل پاکستان ڈاکٹر منصور اعوان نے کہا کہ دھرنا انکوائری کمیشن کے سربراہ بھی عدالت میں موجود ہیں، رپورٹ سے متعلق کوئی سوال ہو تو کمیشن سربراہ سے پوچھا جا سکتا ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میں سمجھ نہیں پا رہا کس لیول کے ذہن نے یہ رپورٹ تیار کی ہے، کمیشن کو معلوم ہی نہیں ان کی ذمے داری کیا تھی، کمیشن نے فیض حمید کے بیان کی بنیاد پر رپورٹ تیار کردی لیکن پاکستان کے نقصان کی کسی کو پرواہ ہی نہیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آگ لگاؤ،مارو یہ حق بن گیا ہے، کمیشن کے دیگر ممبران کہاں ہیں، مجھے اس رپورٹ سے مایوسی ہوئی، جب پاکستان بنا تھا بتائیں کہاں کسی نے آگ لگائی تھی، جو لوگ ماضی سے سبق نہ سیکھیں انہیں سکھایا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ گر ان کی ذمہ داری نہیں تو پھر یہ کس کی ذمہ داری ہے، حلف کی خلاف ورزی کس نے کی یہ نہیں بتایا کمیشن نے، پرامن احتجاج کرنا ہر شہری کا حق ہے اس لیے کمیشن کیسے کہہ سکتا کہ مظاہرین کو پنجاب میں روکنا چاہیے تھا۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے مزید کہا کہ معلوم نہیں کمیشن کو کس بات کا خوف تھا، انکوائری کمیشن کو لگتا ہے پنجاب حکومت سے کوئی بغض ہے، اس لیے ان نے سارا نزلہ پنجاب حکومت پر گرا دیا اور  سارا فوکس صرف اس بات پر تھا کہ پنجاب سے اسلام آباد کیوں آنے دیا جب کہ کمیشن کی مداخلت نہ کرنے پر ساری رپورٹ پنجاب حکومت کے خلاف لکھ دی۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Scroll to Top