منگل، 21-مئی،2024
( 13 ذوالقعدہ 1445 )
منگل، 21-مئی،2024

EN

فلسطینیوں کی نسل کشی او آئی سی رکن ممالک اسرائیل پر پابندیاں عائد کریں!

07 مئی, 2024 10:48

اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے غزہ میں جاری فلسطینیوں کی اسرائیلی جارحیت اور فلسطینیوں کی نسل کشی کی مذمت کرتے ہوئے تنظیم کے رکن ممالک سے اسرائیل پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اتوار کو منظور ہونے والی قرارداد میں تنظیم نے اپنے ارکان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل پر پابندیاں عائد کریں اور غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کو روکنے کیلئے اسرائیلی فوج کی جانب سے استعمال کیے جانے والے ہتھیاروں اور گولہ بارود کی برآمد روکیں، اجلاس میں پیش کی گئی قرارداد میں ارکان پر زور دیا گیا کہ وہ قابض اسرائیلی حکومت کے جرائم اور فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی روکنے کیلئے پابندیوں سمیت سفارتی، سیاسی اور قانونی اقدامات کریں، تنظیم کے بیان میں فوری، مستقل اور غیر مشروط فائر بندی کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے، نومبر 2023 میں ریاض میں او آئی سی اور عرب لیگ کا ایک مشترکہ اجلاس ہوا تھا، جس میں غزہ میں اسرائیلی افواج کی کارروائیوں کی مذمت تو کی گئی، اسرائیل کے خلاف تادیبی اقتصادی اور سیاسی اقدامات کا مطالبہ نہیں کیا گیا تھا، لیکن دسمبر 2023 میں او آئی سی کی جانب سے بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) میں اسرائیل کو جنگی جرائم میں ملوث ہونے کے متعلق کی جانے والی جنوبی افریقہ کی درخواست پر ہونے والی کارروائی کا خیر مقدم کیا تھا۔

اسلامی تعاون تنظیم نے سعودی عرب میں مسلم ملکوں کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں فلسطینیوں کی نسل کشی پر مبنی اسرائیلی حکومت کی پالیسی کے خلاف پابندیاں لگانے کی بات کی ہے، سچائی تو یہ ہے کہ ایران، افغانستان اور شاید پاکستان کے علاوہ کم و بیش تمام مسلم ممالک کے بلواسطہ یا براہ راست اسرائیل سے سیاسی یا تجارتی سطح پر روابط قائم ہیں اور اس غاصب حکومت سے ٹیکنیکی مدد بھی حاصل کررہے ہیں، آذربائیجان جو اسلامی تعاون تنظیم کا رکن ملک ہے اور اسرائیل کو بذریعہ ترکیہ پائپ لائن سے خام تیل فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے، 2023 کے پہلے دو مہینوں کے اعداد و شمار کے مطابق آذربائیجان اور اسرائیل کے درمیان خام تیل کے علاوہ باہمی تجارت 334.1 ملین امریکی ڈالر تک پہنچ گئی تھی، دونوں ملکوں کی تجارت 26.36 فیصد کی سطح پر فروغ پا رہی ہے، اسرائیل آذربائیجان میں توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کررہا ہے، جس نے اسرائیلی کمپنیوں کیلئے نئے مواقع پیدا کیے ہیں، دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کے مثبت رجحان کی بنیاد پر 2023 میں آذربائیجان اور اسرائیل کے درمیان باہمی تجارت دوگنا بڑھ چکی ہے، سال 2023ء کیلئے آذربائیجان اور اسرائیل کے درمیان تجارتی حجم  668.2 ملین امریکی ڈالر کا تخمینہ لگایا گیا تھا اور اس ہدف کو عبور کرلیا ہے، اب ہم خلافت عثمانیہ کے احیاء کے دعویدار ملک ترکیہ اور اسرائیل کے تعلقات کا جائزہ لیتے ہیں، 2023 میں ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان تجارتی حجم 6.8 بلین امریکی ڈالر تھا، یہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا اب تک کا سب سے زیادہ حجم ہے اور  2022 کے مقابلے میں دونوں ملکوں کی باہمی تجارتی حجم 29 فیصد بڑھا ہے، اس کے باوجود کہ اکتوبر 7 کے بعد اسرائیل نے غزہ پر وحشیانہ حملے شروع کردیئے تھے اور چند ہفتوں میں 26 ہزار فلسطینی شہید ہوچکے تھے جن میں خواتین اور بچوں کی تعداد قابل ذکر تھی، تاہم مئی 2024 میں ترک حکومت نے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے خلاف ملک میں بڑھتی ہوئی مخالفت اور احتجاج کے باعث اسرائیل کے ساتھ بعض شعبوں میں تجارت معطل کردی ہے، ابھی تک ہم نے دو غیر عرب مسلم ممالک کے اسرائیل سے تجارتی تعلقات کا ذکر کیا، اب عرب ملکوں اور اسرائیل کے سفارتی، سیاسی اور تجارتی تعلقات کا جائزہ لیتے ہیں۔

سال 2023ء میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تجارتی حجم 2.9 بلین امریکی ڈالر تھا، باہمی تجارتی حجم میں 2022 کے مقابلے میں 50 فیصد کا اضافہ ریکارڈ ہوا، متحدہ عرب امارت اور اسرائیل کے درمیان اوسلو معاہدے کے بعد سے کسی نہ کسی سطح پر سفارتی اور تجارتی رابطہ رہا ہے لیکن اب دونوں ملک سفارتی تعلقات رکھتے ہیں، 2022ء میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان جامع اقتصادی شراکت داری (سی ای پی اے) کا معاہدہ ہوا تھا جس نے دونوں ممالک کے درمیان تجارت پر سے ٹیکس اور دیگر رکاوٹوں کو کم کر دیا ہے، خیال رہے یہ سہولت پاکستانیوں کو میسر نہیں ہے، آذربائیجان کے بعد متحدہ عرب امارات اسرائیل کو پیٹرولیم مصنوعات برآمد کرنے والا ایک بڑا ملک ہے، اب آتے ہیں اُس ملک کی جانب جو مسلم لیڈشپ کا دعویدار ہے یعنی سعودی عرب ریاض اور تل ابیب کے درمیان سفارتی تعلقات کیلئے کافی عرصے سے مذاکرات جاری ہیں، امریکہ کے سابق صدر ٹرمپ نے دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات کیلئے ابتدائی ہوم ورک کیا، سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات نہ ہونے کے باوجود گذشتہ کچھ سالوں میں، سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان غیر رسمی تجارتی تعاون میں اضافہ ہوا ہے، تجارتی تعاون کی بنیاد مڈل مین اور نجی کمپنیوں کے ذریعے کسی تیسرے ملک ممکنہ طور پر بحرین کی شمولیت کیساتھ انجام پاتا ہے، اسرائیل سعودی عرب سے تیل اور گیس درآمد کرتا ہے، اسرائیلی کمپنیاں سعودی عرب میں ٹیکنالوجی، دفاعی سامان اور دیگر مصنوعات اور خدمات برآمد کرتی ہیں، سعودی اور اسرائیلی بزنس مین ایک دوسرے کے ساتھ سرمایہ کاری اور کاروباری مواقع تلاش کر رہے ہیں، سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان معاشی تعاون بھی جاری ہے، جیسا کہ مشترکہ تحقیق اور ترقی کے منصوبے مثال کے طور پر دونوں ممالک مل کر طاقت اور پانی کی نئی ٹیکنالوجی پر کام کر رہے ہیں، 2020 میں سعودی عرب نے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان معاہدہ ابراہیم کے تحت قائم ہونے والے سفارتی تعلقات کی حمایت کی تھی، جس کے بعد سعودی عرب نے اسرائیل جانے اور آنے والی مسافر فلائیٹس کیلئے اپنی فضائی حدود کھول دی تھی جبکہ سعودی عرب میں اسرائیل کی مقبولیت بہت کم ہے، 2023 کے ایک سروے کے مطابق صرف دو فیصد سعودی شہری اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی حمایت کرتے ہیں، اس کا مطلب ہے کہ اگر سعودی عرب اور اسرائیل رسمی تعلقات قائم کرتے ہیں تو اسے عوامی سطح پر شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

مصر، اردن وہ ممالک ہیں جنھوں نے دوسری عرب اسرائیل جنگ کے بعد اسرائیل سے سفارتی اور تجارتی تعلقات قائم کرلئے تھے، اور اِن ملکوں کی اسرائیل کیساتھ بلین آف ڈالرز کی تجارت ہے، مراکش بھی اُن عرب ملکوں میں شامل ہوچکا ہے جس کے اسرائیل سے ہر سطح پر تعلقات قائم ہیں، دونوں ملکوں کا تجارتی حجم 500 ملین ڈالر سے تجاوز کرگیا ہے، اِن حالات میں اسرائیل سے کھلے اور درپردہ تعلقات فلسطینیوں کی نسل کشی رکوانے کیلئے مسلم ممالک صرف مطالبہ ہی کرسکتے، اسلامی تعاون تنظیم کے اجلاسوں کی حیثیت، نشستن گفتن برخاستن کے مترادف ہے، اسلامی تعاون تنظیم کی جانب سے اسرائیلی فوج کے زیر استعمال ہتھیاروں اور گولہ بارود کی برآمد روکنے کا مطالبہ بڑا معنیٰ خیز ہے، مسلم ممالک میں دو تین ہی ملک ہیں جو اسلحہ سازی کی قدرت رکھتے ہیں، ایران کو خارج کردیا جائے تو صرف دو ملک بچتے ہیں جو اسرائیل کو اسلحہ سپلائی کرسکتے ہیں اور مجھے خوف ہے، جس کے باعث میڈیا پر آنے والی خبروں کا یہاں تذکرہ نہیں کرونگا اور انشاء اللہ یہ خبرین درست بھی نہیں ہونگی، اسلامی تعاون تنظیم کو چاہیئے کہ وہ اس وقت جنگ بندی معاہدے کے متعلق صرف اور صرف حماس کی پشت پناہی کرئے اور غزہ کے دربدر فلسطینیوں کی غذائی اور مالی مدد کو یقینی بنائے۔

نوٹ: جی ٹی وی نیوز  اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے اتفاق کرنا ضروری نہیں۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Scroll to Top