پیر، 22-اپریل،2024
( 12 شوال 1445 )
پیر، 22-اپریل،2024

EN

ترکی کشتی حادثہ، سہانے خواب لیے پاکستانی جوڑے سمیت 4 بچے ڈوب گئے

31 مارچ, 2024 12:24

انقرہ:سہانے خواب لیے ایک پاکستانی جوڑا اپنے چار بچوں کے ہمراہ یورپ جانے کی کوشش میں ترکی اور یونان کے قریب پانیوں میں ڈوب کر جاں بحق ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق کوئٹہ کے علاقے علمدار روڈ کے رہائشی سید علی آغا اور ان کی اہلیہ 40 سالہ بی بی طاہرہ، 4 بچے جس میں 14 سالہ سبحان، 12 سالہ سجاد، 10 سالہ فاطمہ اور 5 سالہ کوثر یونان جاتے ہوئے ترکی کے سمندر میں کشتی الٹنے سے جاں بحق ہوگئے۔

ان کے اہل خانہ نے جی ٹی وی کو تصدیق کی ہے کہ 20 مارچ کو ترکی سے تعلق رکھنے والے ایک جاننے والے نے فون پر اس حادثے کی اطلاع دی اور کہا کہ کوئی بھی زندہ نہیں بچاہے۔

انہوں نے کہا کہ ترکی میں پاکستانی سفارت خانے اور ترک حکام سے رابطہ کیا ہے کہ مرحومین کی لاشوں کو کوئٹہ لانے کا طریقہ کار بہت مہنگا، پیچیدہ اور وقت طلب ہے۔

میت کو کوئٹہ لانے کا خرچ کم از کم 8 ہزار ڈالر بتایا گیا اور اہل خانہ نے میت کو وہاں دفن کرنے کی اجازت دے دی۔

علی آغا کے بہنوئی عادل شاہ نے بتایا کہ پورا خاندان تکلیف میں ہے اور جوڑے کے بوڑھے والدین صدمے میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی بہن کی شادی تقریبا 15 سال قبل سید علی آغا سے ہوئی تھی، وہ تین، چار سال پہلے روزگار کی تلاش میں ترکی چلے گئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ علی آغا کا خواب تھا کہ وہ اپنی بیوی اور بچوں کو بہتر اور خوشحال مستقبل دیں لیکن ترکی میں ان کی زندگی آسان نہیں تھی۔ وہ تعمیراتی شعبے میں یومیہ اجرت پر کام کرتے تھے اور مشکل سے گزر بسر کر رہے تھے۔

حادثہ کیسے پیش آیا؟

 ترک حکام کے مطابق کشتی ڈوبنے کا واقعہ 15 مارچ کو ترکیہ کے شمال مغربی صوبہ چناق قلعہ میں پیش آیا۔

ترک میڈیا کے مطابق حادثے میں کشتی میں سوار تمام افراد ڈوب گئے جن میں سے اب تک 61 افراد کی لاشیں سمندر سے نکالی جا چکی ہیں۔

ترکیہ کے خبر رساں ادارے ’ڈیمیرورین‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ تارکین وطن کو لے جانے والی کشتی چناق قلعہ کے ضلع ایجے آباد کے  ساحل سے روانہ ہوئی تھی اور  15 مارچ کی صبح آٹھ بجے کے قریب ساحل سے تقریباً 13 کلومیٹر دور طوفان کے نتیجے میں الٹنے کے بعد ڈوب گئی۔ دو تارکین وطن تیر کر خود ساحل تک پہنچے اور کوسٹ گارڈ کو حادثے کی اطلاع دی جس کے بعد تلاش کا کام شروع کیا گیا۔

روشن زندگی کیلئے ڈنکی تک کا سفر:

ہر سال روشن مستقبل کا خواب لیے لوگ غیر قانونی طور پر یورپ جانے کے لیے ڈنکی کا پر خطرسفر کرتے ہیں۔ ڈنکی کی ابتداء ایک ایسے ایجنٹ سے ہوتی ہے جو غیر قانونی طور پر سرحد پار کروانے کا خواب دیکھا کر ملک بھر سے لوگوں کو کوئٹہ لے آتے ہیں۔ جس کے بعد نوشکی اور تفتان کے غیر قانونی راستوں کے زریعے یہ لوگوں کو پیدل یا گاڑیوں میں چھپا کر سرحد پار کرتے ہیں جس کے بعد انہیں کئی روز تک ترکی کی سرحد تک غیر آبادی پہاڑی راستوں کے زریعے ترکی لے جایا جاتا ہے۔ ترکی سے سمندر کا طوفانی سفر شروع ہوتے ہے جب سیکنڑوں لوگوں کو ایک چھوٹی سے کشتی میں بنا کئی حفاظتی تدابیر کے سفر کروایا جاتا ہے اگر یہ کشتی نہ ڈوبنے اور نہ پکڑی جائے تو پھر یہ لوگ غیر قانونی طور پر یونان داخل ہو جاتے ہیں۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Scroll to Top