بدھ، 19-جون،2024
( 13 ذوالحجہ 1445 )
بدھ، 19-جون،2024

EN

ہارٹ اٹیک کا خطرہ پتہ لگانے کیلئے نئی ٹیکنالوجی متعارف

04 جون, 2024 12:49

برطانوی محققین نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا استعمال ہارٹ اٹیک خطرے والے مریضوں کی شناخت کے لیے کیا جا سکتا ہے۔

برطانوی میڈیا بی بی سی کے مطابق لیڈز یونیورسٹی کے محققین نے فائنڈ ایچ ایف کے نام سے ایک الگورتھم تیار کیا ہے جو مریضوں کے ریکارڈ کا استعمال کرتے ہوئے اس حالت کی ابتدائی علامات کا پتہ لگانے کے لئے قبل از علاج کیا جاسکتا ہے۔

برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن (بی ایچ ایف) کے مطابق اس وقت برطانیہ میں 10 لاکھ سے زائد افراد ہارٹ فیلئیر کا شکار ہیں۔

مزید پڑھیں:ہائی کورٹ میں ایف آئی اے افسر دل کا دورہ پڑنے سے جاں بحق ہو گئے
لیڈز ٹیچنگ ہسپتال این ایچ ایس ٹرسٹ اور یونیورسٹی آف لیڈز کے پروفیسر کرس گیل کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی مریضوں کیلئے ‘مواقع کی ایک اہم کھڑکی’ کھولے گی۔

اس تحقیق کے لیے برٹس ہارٹ فاؤنڈیشن (بی ایچ ایف) نے مالی اعانت فراہم کی ہے جس پر محققین نے اے آئی الگورتھم کی تربیت کیلئے برطانیہ کے 5 لاکھ 65 ہزار 423 بالغوں کے مریضوں کے ریکارڈ کا استعمال کیا ہے۔
اس کے بعد تائیوان نیشنل یونیورسٹی ہاسپٹل کے 1 لاکھ 6 ہزار 23 ریکارڈز کے ڈیٹا بیس پر اس کی مزید جانچ کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ محققین کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت پانچ سال کے اندر ان مریضوں کی درست پیش گوئی کرنے میں کامیاب رہی جن میں دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ سب سے زیادہ ہوتا ہے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Scroll to Top