منگل، 23-اپریل،2024
( 13 شوال 1445 )
منگل، 23-اپریل،2024

EN

فلسطین میں قتل عام کا ردعمل امریکا میں آنے کا خطرہ

19 مارچ, 2024 15:00

غزہ میں اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینیوں کے قتل عام پر امریکی خاموشی نے دنیا بھر میں بھرپور ردعمل کو جنم دیا ہے۔

امریکا کے خلاف نفرت میں اضافہ جگہ جگہ دیکھا جاسکتا ہے اب تو امریکی  ایف بی آئی اور دیگر ایجنسیوں نے بھی امریکا کے اندر شدت پسند حملوں کے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے۔

ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کرسٹوفر رے کاکہنا ہے کہ حزب اللہ، القاعدہ اور آئی ایس آئی ایس جیسی غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں سے خطرات میں کمی  کے باوجود نئے خدشات  موجود ہیں تاہم ایف بی آئی کا فوکس داخلی دہشتگردی کے خدشات پر ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ 911 جیسے بڑے حملوں کےامکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا لیکن دہشتگرد تنظیموں سے متاثرہ افراد کے انفرادی حملوں کے خطرات زیادہ ہیں۔

امریکی شمالی کمان کے کمانڈر جنرل گریگوری ایم گیلوٹ نے بھی خدشے کا اظہار کیا کہ دہشتگردی کے پروپیگنڈے سے فائدہ اٹھا کر داخلی طور پر تشدد کو ہوا دینے کے خدشات موجود ہیں۔

داخلی خطرات پر توجہ  کے باوجود ایف بی آئی اور انٹیلی جنس ایجنسیاں غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کے حوالے سے چوکس رہتی ہیں۔ نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر ایوریل ہینس نے اس بات پر اتفاق کیا کہ حالیہ واقعات عالمی دہشت گردی پر دیرپا اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

ایوریل ہینسکا کہنا تھا کہ یہ خطرات بھی موجود ہیں کہ دہشتگرد جنوبی سرحد سے داخل ہونے والے تارکین وطن کو استعمال کریں، منشیات کی اسمگلنگ نیٹ ورکس کے ذریعے بھی دہشتگردوں کی دراندازی کا خدشہ ہے۔

امریکی سینیٹر ٹیڈ کروز جیسے سیاست دانوں نے غیر قانونی امیگریشن کو دہشت گردی کے حوالے سے  ایک اہم خطرہ قرار دیا ہے، حالیہ مہینوں میں محکمہ انصاف نے دہشت گرد گروہوں سے مبینہ طور پر تعلق کے جرم میں کئی افراد کے خلاف مقدمات شروع کیے ہیں۔

حکام نے  دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے چوکسی اور فعال اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اگرچہ امریکی توجہ ملکی اور غیر ملکی دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے پر مرکوز ہے لیکن بنیادی حقوق اور اقدار کو برقرار رکھنے پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Scroll to Top