پیر، 22-اپریل،2024
( 12 شوال 1445 )
پیر، 22-اپریل،2024

EN

238 بار شکست کھانے والا شخص دوبارہ الیکشن لڑنے کیلئے تیار

01 اپریل, 2024 16:12

ایک بھارتی شخص 238 بار انتخابات میں شکست سے دوچار ہونے کے باوجود رواں سال اپنی 239 ویں انتخابی مہم شروع کرنے کے لئے تیار ہے۔

بھارت کے ‘الیکشن کنگ’ کے طور پر پہچانے جانے والے 65 سالہ کے پدمراجن نے مقامی کونسل سے لے کر انڈین پریزیڈنسی تک متعدد عہدوں کے لیے انتخابات میں حصہ لیا ہے اور ان میں سے سبھی میں انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

ماضی کی شکستوں سے قطع نظر وہ 19 اپریل سے شروع ہونے والے چھ ہفتوں تک جاری رہنے والے عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے دوبارہ تیاری کر رہے ہیں۔

جنوبی ریاست تمل ناڈو میں پارلیمانی نشست کے لئے پدمراجن کی امیدواری انہیں سرخیوں میں لا رہی ہے۔

کبھی جیت کا مزہ نہ چکھنے کے باوجود پدمراجن ایک مقامی مشہور شخصیت ہیں جو اپنی مونچھوں کے لئے جانے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حقیقی ہمت الیکشن میں حصہ لینے میں ہے۔

پدمراجن نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ تمام امیدوار انتخابات میں کامیابی کے خواہاں ہیں لیکن میں نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کے لیے جیت حصہ لینے میں ہے اور جب ان کی شکست لازمی طور پر آتی ہے تو وہ ہارنے پر خوش ہوتے ہیں۔

گزشتہ برسوں کے دوران انہوں نے بھارتی وزرائے اعظم نریندر مودی، اٹل بہاری واجپائی اور منموہن سنگھ کے علاوہ بھارت کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کے سربراہ راہول گاندھی سمیت اہم شخصیات کے خلاف انتخابی جنگ لڑی ہے۔

رپورٹس کے مطابق اپنے سیاسی کاموں کے علاوہ، پدمراجن ایک معمولی زندگی گزارتے ہیں، ٹائر کی مرمت کی دکان چلاتے ہیں اور ہومیوپیتھک علاج بھی پیش کرتے ہیں، وہ مقامی میڈیا اداروں کے ایڈیٹر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

پدمراجن کا کہنا ہے کہ انہوں نے بھارت میں انتخابات لڑنے کے قابل ہونے کے لئے امیدواروں کی جانب سے جمع کرائی جانے والی لاکھوں روپے کی رقم کھو دی ہے۔

اگر امیدوار انتخابات میں 16 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو ان کی ضمانت ختم ہو جاتی ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق انہیں اب تک ایک کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہوا ہے۔

 

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Scroll to Top