بدھ، 19-جون،2024
( 13 ذوالحجہ 1445 )
بدھ، 19-جون،2024

EN

پنجاب میں ہتک عزت کا قانون بنتے ہی عدالت میں چیلنج

08 جون, 2024 11:06

گزشتہ رات قائم مقام گورنر ملک احمد خان کے دستخط اور پنجاب اسمبلی سے منظور ہونے والا ہتک عزت قانون لاہور ہائی میں چیلنج کردیا گیا۔

جی ٹی وی کے مطابق صحافی جعفر احمد یار اور شہری راجہ ریاض کی جانب سے ہتک عزت قانون کیخلاف درخواست لاہور ہائیکورٹ میں دائر کی گئی۔

درخواست میں وزیراعلیٰ مریم نواز، گورنر پنجاب اور پنجاب حکومت کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست گزار کے مطابق ہتک عزت قانون آئین اور قانون کے منافی ہے، ہتک عزت آرڈیننس اور ہتک عزت ایکٹ کی موجودگی میں نیا قانون نہیں بن سکتا۔

مزید پڑھیں:پنجاب بھر کے اسکولوں میں موسم گرما کی تعطیلات کا اعلان

درخواست کے مطابق ہتک عزت قانون میں صحافیوں سے مشاورت نہیں کی گئی، درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت ہتک عزت کے قانون کو کالعدم قرار دیا جائے، درخواست کے حتمی فیصلے تک ہتک عزت قانون پر عملدرآمد روکا جائے۔

صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری نے بل کو قانون کا درجہ دیئے جانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی صحافیوں کے ساتھ دھوکا کیا ہے، پیپلز پارٹی اوپر اوپر سے صحافیوں کے ساتھ تھی لیکن اندر سے حکومت کے ساتھ ملی ہوئی تھی اور گورنر کو چھٹی پر بھیج کر بل منظور کروا لیا۔ انکا کہنا تھا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے گی۔

ہتک عزت بل 2024 کیا ہے؟

ہتک عزت بل 2024 بل کا اطلاق پرنٹ، الیکٹرونک اور سوشل میڈیا پر ہوگا، پھیلائی جانے والی جھوٹی،غیرحقیقی خبروں پر ہتک عزت کا کیس ہو سکےگا۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Scroll to Top