بدھ، 17-اپریل،2024
( 08 شوال 1445 )
بدھ، 17-اپریل،2024

EN

امتیازی سہریت قانون کا نفاذ، بھارتی جمہوریت کو عالمی برادری آئینہ دکھانے لگی

15 مارچ, 2024 16:42

بھارت میں شہریت قانون کے نفاذ کے ساتھ ہی اندرون ملک اور عالمی برادری کی طرف سے منفی ردعمل آنا شروع ہوگیا ہے۔

اقوام متحدہ نے اس قانون کے نفاذ پر ایک بار پھر تشویش کا اظہار کیا ہے، اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے ترجمان  نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت کی جانب سے 2019ء میں شہریت قانون میں امتیازی ترامیم کے وقت جس طرح عالمی برادری کو تشویش کا اظہار کیا تھا۔

بھارتی حکومت نے اسے نظر انداز کردیا اور اب اس کے نفاذ سے خطرناک صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے، شہریت ترمیمی قانون کا نفاذ بھارت جیسے بڑے آبادی والے ملک میں انسانی حقوق اور جمہوریت کو مستقبل قریب میں خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

ہندوستان کا شہریت (ترمیمی) ایکٹ 2019 (سی اے اے) بنیادی طور پر امتیازی نوعیت رکھتا ہے اور اس ملک کی جانب سے بین الاقوامی انسانی حقوق کی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی ہے، بھارت کا متذکرہ قانون مذہبی تعصب پر مبنی ہے اس سے وہاں کی 33 کروڑ مسلم آبادی کو جمہوری جبر کا سامنا کرنا پڑے گا۔

بد قسمتی سے بھارت جیسی بڑی جمہوریت میں ایک ایسی حکومت جمہوری عمل کے نتیجے میں برسراقتدار آچکی ہے جو مسلسل اقلیتوں کو نشانہ بنارہی ہے، دنیا کے مفکرین کو جمہوریت کے اس نقصان کے ازالے کی طرف بھی توجہ کرنی چاہیئے، جو ایک فلسفیانہ موضوع ضرور ہے مگر اس پر عام بحث ہونی چاہیئے کیونکہ فسطائی قوتیں جمہوریت کے بل بوتے پر اقتدار کی طاقت سے مذہبی تشدد، معاشرتی انتشار اور اقلیت کے حقوق کو سلب کرسکتی ہیں۔

جیسا کہ اس وقت ہندوستان میں ہورہا ہے وہاں مسلم اور عیسائی شدت پسند ہندوؤں کے ظلم کا شکار ہیں اور اس ملک پر شدت پسندی پر مبنی رجحانات  رکھنے والی برسراقتدار حکومت درپردہ  شدت پسندوں کی حمایت کرتی ہے۔

دنیا بھر کی انسانی حقوق کے حامیوں نے 2019ء کے شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے) پر تشویش کا اظہار کیا ہے جسے ہندوستانی حکومت نے پیر 11 مارچ 2024ء کو ملک گیر سطح پر نافذ کردیا تھا۔

بھارتی اپوزیشن سمیت اس ملک میں انسانی حقوق کیلئے سرگرم قوتیں بجا طور پر اس خدشے کا اظہار کررہی ہیں کہ بھارت میں انتخابات سے چند ہفتے قبل وزیر اعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت اس قانون کو نافذ کرکے ہندؤ اکثریت کے مذہبی جذبات کو استعمال کرکے انتخابات پر اثرانداز ہورہی ہے۔

انسانی حقوق کے گروپوں نے نوٹ کیا ہے کہ بھارت کا شہریت قانون پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے ہزارہ اور میانمار کے روہنگیا مسلمانوں کو استشنیٰ دیتا ہے، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے کہا ہے کہ بھارت کے شہریت قانون میں امتیازی ترامیم سے شہری اور سیاسی حقوق سے متعلق انٹرنیشنل کنونشن اور نسلی امتياز کے خاتمے کے کنونشن کی اہمیت کی نفی ہوتی ہے جس کا ایک ریاست کے طور پر بھارت رکن ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دفتر اس بات کا مطالعہ کر رہا ہے کہ آیا بھارتی شہریت کا ترمیمی قانون کا نفاذ بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی تعمیل کرنے میں رکاوٹ تو نہیں ہے، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے امتیازی شہریت بل پر زوردار آواز اُٹھانے کے ساتھ 14 مارچ 2024ء کو امریکی محکمہ خارجہ ترجمان میتھیو ملر نے بھی بھارت میں شہریت کے متنازع قانون کے نفاذ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذہبی آزادی کا احترام، قومیتوں کے لئے برابری کا سلوک بنیادی جمہوری اصول ہے، امریکا میں بھارت کے شہریت ترمیمی ایکٹ کے نوٹیفیکشن پر تشویش ہے ہم اس ایکٹ کی قریب سے نگرانی کررہے ہیں کہ اسے کیسے نافذ کیا جائے گا۔

بھارت کے مسلم رہنما اویسی کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش سے آنے والے مسلمانوں کو اس خطے میں رہتے ہوئے دہائیاں ہو گئی ہیں تاہم ان کو شہریت نہیں دی گئی بلکہ نیشنل رجسٹریشن (این آر سی) کے تحت انہیں غیر قانونی تارکین وطن قرار دیا جا رہا ہے، سنہ 2019ء کے اگست میں بھی یہ تنازع سامنے آیا تھا کہ جب این آر سی کا اجرا ہوا تو اس میں 20 لاکھ افراد کے نام شامل نہیں تھے۔

یعنی یہ افراد بھارت کے شہری تسلیم نہیں کیے گئے تھے، ان میں اکثریت مسلمانوں کی تھی اور ان میں کچھ ہندو بھی شامل تھے، بھارت کی حکومت کا مؤقف رہا ہے کہ وہ مسلمان جو اپنے خاندان کے ساتھ بنگلہ دیش سے آئے تھے، اُنہیں بھارت میں رہنے کا قانونی حق حاصل نہیں ہے۔

بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کی حکومت پر ملک کے اندر تنقید میں اضافہ ہوا ہے کہ وہ بھارتی حکمراں پارٹی بی جے پی کی ہم خیالی میں اس قدر آگے بڑھ گئیں ہیں کہ انہیں بنگالی مسلمانوں کی فکر لاحق نہیں ہے جو ہندوستان ہجرت کرگئے تھے۔

حسینہ واجد کی حکومت اس سارے معاملے پر خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہی ہے اور اس سے بدتر حال پاکستان کا ہے جو لگتا ہے کہ خطے میں بھارت کی بالادستی کو تسلیم کرچکی ہے، اس باوجود بھارت کی مسلم تنظیموں نے شہریت سے متعلق نئے امتیازی قانون کے نفاذ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن عام بھارتی مسلمان بابری مسجد پر سپریم کورٹ کے طرز عمل اور فیصلے کے بعد زیادہ پُرامید نہیں ہے کہ انہیں سپریم کورٹ کوئی ریلیف دے سکے گی۔

شہریت ترمیمی قانون پر بھارتی اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اس قانون سے سب ہی مذاہب کے ساتھ برابر کا سلوک کرنے کی آئینی ضمانت کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔

بھارت کی تقریباً تمام مسلم تنظیموں نے 12 مارچ 2024ء منگل کے روز ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ ٓ سی اے اے ترمیمی قانون، مساوات اور انصاف کے بنیادی اصولوں کو کمزور کرتا ہے اور عام انتخابات کے اعلان سے عین قبل شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے) کے نفاذ کی شدید طور پر مذمت کرتے ہیں۔

بھارت کی بنیادیں سکیولر اور جمہوریت پر استوار ہیں اور دنیا بھر میں اس کی مثالیں دی جاتی ہیں، بی جے پی حکومت متنازع قانون سازی کرکے بھارت کے جمہوری اور سکیولر چہرے پر سیاہی پوتنے سے باز رہے تو اس سے ہی بھارت کی دنیا میں عزت رہے گی،۔

متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب ہندوستان کے قریبی اتحادی ممالک ہیں انہیں چاہیئے کہ بھارت کی حکمراں جماعت بی جے پی کو مذہبی شدت پسندی کے منفی اثرات سے آگاہ کریں، جس کا شکار رہ کر اِن دونوں ملکوں نے بہت کچھ کھویا ہے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Scroll to Top