منگل، 23-اپریل،2024
( 13 شوال 1445 )
منگل، 23-اپریل،2024

EN

بھارتی ووٹروں کا حجم تمام یورپی ممالک کی مجموعی آبادی سے زیادہ ہوگیا

18 مارچ, 2024 18:41

بھارت کے ووٹروں کی تعداد یورپ کے تمام 50 ممالک کی مجموعی آبادی سے بھی زیادہ ہوگئی۔

دنیا کی سب سےبڑی نام نہاد جمہوریت پر حکمرانی کون کرےگا؟ بھارت میں ڈھائی ماہ طویل پارلیمانی انتخابات کا آغاز ہوگیا ہے۔ ہفتے کو بھارتی الیکشن کمیشن نے ملک میں رائے شماری کے لیے تاریخوں کا اعلان کیا۔  ایک اندازے کے مطابق  96 کروڑ 90 لاکھ ووٹرز حق رائے دہی استعمال کرنے کے اہل ہیں۔

96 کروڑ سے زائد ووٹرز پارلیمنٹ کے ایوان زیریں لوک سبھا کے لیے 543 سیاستدانوں کو منتخب کریں گے۔ ایوان کے لیے مزید دو اراکین کی نامزدگی ہوگی جس سے اراکین کی کل تعداد 545 ہو جائے گی۔

بھارت کا الیکشن حجم کے لحاظ سے بہت عظیم، پیچیدہ اور متنوع اثرات رکھتا ہے،  ہفتہ کو شروع ہونے والا انتخابی عمل 82  دن تک جاری رہے گا۔ بھارت کے چیف الیکشن کمشنر راجیو کمار کے مطابق 19 اپریل سے یکم جون تک 7 مرحلوں میں ووٹنگ ہوگی جب کہ ووٹوں کی گنتی 4 جون کو کیا جائے گی۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بھارتی انتخابات کا عمل طویل ہوتا جا رہا ہے۔ 1980  میں یہ 4 دن میں مکمل کرلیا گیا تھا۔ پھر 2019 میں 39 دن تک چلاگیا اور اب 2024 میں یہ 44 دن تک پھیل گیا ہے۔ بھارت کے سابق چیف الیکشن کمشنر این گوپالسوامی کے مطابق انتخابات میں طوالت کی بنیادی وجہ دھاندلی کو روکنے کے لیے بھاری تعداد میں وفاقی سکیورٹی فورسز کی تعیناتی ہے۔

نئی دہلی میں قائم سینٹر فار میڈیا اسٹڈیز کے چیئرمین این بھاسکر راؤ نے کہا کہ اس کے باوجود ملک میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کیونکہ طویل انتخابی مہم اس وقت کی حکمران جماعت کے حق میں ہے۔ راؤ نے دلیل دی کہ اس عمل کو مختصر کیا جانا چاہیے۔ یہ عمل جتنا طویل ہوگا، حکمراں جماعت کے لیے سرکاری انفراسٹرکچر کو استعمال کرنے کا اتنا ہی زیادہ موقع ہوگا۔

90 کروڑ 90 لاکھ ووٹرز

بھارت کے ووٹروں کا حجم یورپ کے تمام ممالک کی مجموعی آبادی سے زیادہ ہے۔ یہ ووٹرز 10 لاکھ سے زیادہ  پولنگ اسٹیشنوں پر 55 لاکھ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے ذریعے اپنا ووٹ ڈالیں گے۔ الیکشن کمیشن انتخابات کے لیے تقریباً 15 کروڑ پولنگ عملہ اور سکیورٹی اہلکار تعینات کرے گا۔

14 ارب 40 کروڑ ڈالر کے انتخابی اخراجات کے ساتھ  یہ دنیا کا مہنگا ترین الیکشن ہوگا۔ رائے دہندگان کو راغب کرنے کے لیے سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کے اخراجات پر ممکنہ طور پر ایک کھرب 20 ارب بھارتی روپے یعنی 14 ارب 40 کروڑ ڈالر سے زیادہ لاگت آئے گی۔

2020 میں امریکی صدارتی اور کانگریس کے انتخابات کی لاگت بھی 14 ارب 40 کروڑ ڈالر تھی۔ رقبے کے لحاظ سے دنیا کی ساتویں بڑی قوم میں انتخابات کا انعقاد ایک پیچیدہ کام ہے۔ انتخابی حکام نے شمالی ریاست ہماچل پردیش کے ایک گاؤں میں 15،256 فٹ بلندی پر ایک ووٹنگ بوتھ بھی قائم کیا، جو اسے دنیا کا سب سے اونچا پولنگ اسٹیشن بناتا ہے۔

بھارت میں تقریباً 2،660 رجسٹرڈ سیاسی جماعتیں ہیں۔ انتخابات میں حصہ لینے والی ہر پارٹی کو نشانات ملتے ہیں، جیسے حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کا کمل، اپوزیشن کانگریس پارٹی کا ہاتھ، اور دیگر، ہاتھی سے لے کر سائیکل تک، اور کنگھی سے تیر تک پارٹیوں انتخابی نشان الاٹ کیے گئے ہیں۔

2024 کے انتخابات کے اہم کھلاڑی وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی اتحادی تقریباً تین درجن جماعتیں  اور مرکزی اپوزیشن کانگریس پارٹی اپنے دو درجن اتحادیوں کے ہمراہ ہیں۔

2019 کے انتخابات میں  بی جے پی نے 303  سیٹوں کے ساتھ زبردست جیت حاصل کی تھی۔ اس کے اتحاد کے پاس کل 353 نشستیں تھیں۔ کانگریس پارٹی کو 52 اور شراکت داروں کے ساتھ 91 سیٹیں ملیں۔

رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق، فی الحال، بی جے پی حالیہ ریاستی فتوحات کے بعد بہتر پوزیشن پر ہے لیکن ایسی بھی مثالیں موجود ہیں کہ حکمراں جماعت نے ریاستی انتخابات جیتے لیکن مرکزی انتخابات ہارگئی۔  مودی نے بی جے پی کے لیے 370  سیٹوں کا ہدف رکھا ہے، جو 2019 کے مقابلے میں سڑسٹھ نشستیں زیادہ ہے۔ان کے اتحاد کو 400  سیٹیں عبور کرنے کا ہدف ہے۔

آخری بار کسی بھی پارٹی نے 370 کا ہندسہ عبور کیا تھا تو وہ کانگرنیس پارٹی تھی۔ 1984 میں سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد کانگریس پارٹی نے 414 نشستیں حاصل کی تھیں۔ اگر مودی جیت جاتے ہیں اور پانچ سال پورے کر لیتے ہیں تو وہ ہندوستانی تاریخ میں سب سے طویل عرصے تک خدمات انجام دینے والے تیسرے وزیر اعظم ہوں گے۔

ملک کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے لگاتار تقریباً 16  سال 9 ماہ حکومت کی، جب کہ ان کی بیٹی اندرا گاندھی نے  تقریباً 15  سال اور 11 ماہ حکومت کی۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Scroll to Top