بدھ، 19-جون،2024
( 13 ذوالحجہ 1445 )
بدھ، 19-جون،2024

EN

مصنوعی ذہانت سے تیار تصاویر اور ویڈیوز کی شناخت کیسے ممکن ہے؟

16 مئی, 2024 14:42

دنیا بھر مین آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) کی مدد سے بنائی گئی تصاویر اور ویڈیوز ان‍ٹرنیٹ پر وائرل ہو رہی ہیں جنہیں مختلف منفی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

گزشتہ دنوں ایسی کئی تصاویر اور ویڈیوز دنیا بھر میں وائرل ہوئیں تھیں لیکن ان کی شناخت کرنا اہم مسئلہ جس کا حل بھی نکال لیا گیا ہے۔

آپ کو ایسی تجاویز پیش کی جا رہی ہیں جن کی مدد سے حقیقی مواد سے موازنہ کرکے مصنوعی ذہانت سے تیار تصاویر اور ویڈیوز کی باآسانی نشاندہی کر سکتے  ہیں۔

ماہرین کے مطابق کسی بھی ایسی تصویر خصوصاً انسانی تصویر میں اس کے ہاتھ کی انگلیوں کو زوم کرکے غور سے دیکھیں کہیں انگلیوں کی تعداد زیادہ یا کم تو نہیں اور چہرے کی بناوٹ میں کوئی جھول یا لچک تو نظر نہیں آرہی۔

انہوں نے کہا کہ تصویر میں شخص کے سائے اور روشنیوں میں ہم آہنگی کو بھی مد نظر رکھنا چاہئے کیونکہ اکثر تصاویر میں نظر آنے والا شخص واضح فوکس میں ہوتا ہے اور کافی حد تک اصلی دکھائی دیتا ہے۔

جبکہ ویڈیو کو دیکھتے ہوئے اس بات پر گہری نگاہ رکھیں کہ اس میں موجود افراد کی آنکھوں کی حرکات و سکنات اور خصوصاً پلک جھپکنا کہیں غیر فطری تو نہیں کیونکہ اس طرح کی اے آئی ویڈیوز میں عموماً چہرے اور جلد پر ایک عجیب و غریب سی چمک نمایاں ہوتی ہے۔

مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصاویر میں تضادات دکھنا کوئی نئی بات نہیں کیونکہ کہیں ہاتھ بہت چھوٹے یا انگلیاں بہت لمبی ہوسکتی ہیں یا سر اور پاؤں باقی جسم سے میل نہیں کھاتے۔

کسی تصویر کا پس منظر اکثر یہ ظاہر کر سکتا ہے کہ آیا اس میں ہیرا پھیری کی گئی ہے یا نہیں جب کہ کچھ کیسز میں اے آئی پروگرامز لوگوں اور اشیا کو دو بار استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے اے آئی سے تیار تصاویر کا پس منظر دھندلا ہونے کا امکان ہے۔

 

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Scroll to Top