پیر، 22-اپریل،2024
( 12 شوال 1445 )
پیر، 22-اپریل،2024

EN

ہیٹی میں کرفیو نافذ، مسلح گروپ کی ملک پر قبضے کی دھمکی

04 مارچ, 2024 17:54

جیل توڑ کر چار ہزار قیدیوں کے فرار ہونے کے بعد ہیٹی میں کرفیو کے ساتھ ہی ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

ہیٹی کی حکومت نے ملک کی دو اہم جیلوں کو توڑ کر ہزاروں قیدیوں کے فرار ہونے کے پس منظر میں بڑھتے ہوئے عدم تحفظ کے سبب دارالحکومت اور اس کے آس پاس 72 گھنٹوں کے لیے ہنگامی حالت کا نفاذ کرتے ہوئے رات کے دوران کرفیو کا اعلان کیا ہے۔

ہفتے کے اواخر میں مسلح گروہوں نے پورٹ او پرنس کی ایک بڑی جیل پر دھاوا بول دیا تھا، جس کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد ہلاک ہوئے اور تقریباً چار ہزار قیدی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

گینگ لیڈروں کا کہنا ہے کہ وہ وزیر اعظم ایریل ہنری کو طاقت کے ذریعے استعفیٰ دینے پر مجبور کرنا چاہتے ہیں، جو فی الوقت بیرون ملک دورے پر ہیں۔

حکام نے تشدد کے بڑھتے خطرات کے پیش نظر آئندہ چند روز کے لیے ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے جب کہ رات کے دوران کرفیو بھی نافذ رہے گا۔

اتوار کے روز ہیٹی کے دارالحکومت پورٹ-او-پرنس میں اس وقت افراتفری پھیل گئی، جب ملک کے مرکزی قید خانے پر حملے کے دوران رابطوں میں خلل پڑا اور بیشتر قیدی فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔

جیل پر دھاوا بولنے والے گینگ کے لیڈر جمی شریزیئر ہیں، جو ماضی میں ایک پولیس افسر تھے۔ انہوں نے ہی ملک کو اپنی لپیٹ میں لینے والے حالیہ تشدد کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

البتہ جیل پر جب دھاوا بولا گیا توا اس دوران ہیٹی کے وزیراعظم کینیا کے دورے پر تھے اور وہ ملک واپس آنے والے تھے تاہم ان کا ٹھکانہ ابھی تک معلوم نہیں ہوا ہے۔

پورٹ او پرنس کے تقریباً 80 فیصد حصے پر اسی مسلح گروہ کو کنٹرول حاصل ہے، جو وزیر اعظم کو بے دخل کرنا چاہتا ہے۔

ہیٹی کی پولیس یونین نے فوج سے درخواست کی تھی کہ وہ دارالحکومت کی مرکزی جیل کو مزید مضبوط بنانے میں مدد کرے، تاہم اس اقدام سے قبل ہی ہفتے کو دیر گئے اس پر دھاوا بول دیا گیا۔

انسان حقوق کے گروپ آر این ڈی ڈی ایچ کے مطابق یہ جیل 700 قیدیوں کو رکھنے کے لیے بنائی گئی تھی، جس میں گزشتہ سال فروری تک تقریباً 3,687 قیدی بند تھے۔ اطلاعات کے مطابق حملے کے بعد اب 100 سے بھی کم لوگ جیل میں باقی بچے ہیں۔

پورٹ-او-پرنس کی جیل میں قیدگینگ کے وہ ارکان بھی شامل تھے جن پر سن 2021 میں صدر جوؤنیل موئس کے قتل کے سلسلے میں مقدمہ چلایا گیا تھا۔

ہیٹی میں گینگ تشدد میں اضافہ

مسلح گروہوں اور پولیس کے درمیان جھڑپیں پُرتشدد مظاہروں کے دوران ایک جھڑپ کی وجہ سے شروع ہوئی تھیں، لیکن جب وزیر اعظم ہینری نے کینیا کا دورہ شروع کیا تو اس میں اضافہ ہوگیا۔

موئس کے قتل کے بعد اقتدار میں آنے والے ہنری نے پہلے کہا تھا کہ وہ فروری کے اوائل تک اپنا عہدہ چھوڑ دیں گے۔ تاہم بعد میں انہوں نے کہا کہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے، سب سے پہلے سکیورٹی کو بحال کرنے کی ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق ہیٹی کی نیشنل پولیس کے پاس ملک کے 11 ملین سے زیادہ باشندوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے تقریباً صرف 9,000 ہی افسران ہیں۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Scroll to Top