منگل، 23-اپریل،2024
( 13 شوال 1445 )
منگل، 23-اپریل،2024

EN

غزہ کے مظلوم فلسطینی قحط سے دوچار بچوں اور حاملہ خواتین جاں بحق ہورہی ہیں

13 مارچ, 2024 17:24

اسرائیلی فوج غزہ کے فلسطینیوں کی نسل کشی  کے مشن پر تسلسل کے ساتھ کام کر رہی ہے۔

اکتوبر 7 کے بعد ہولناک فضائی حملوں کے بعد اب قحط کی صورتحال پیدا کرکے فلسطینیوں کی نسل کشی کے منصوبے کو آگے بڑھایا جارہا ہے، امریکا نسل کشی کے اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے اسرائیل کا بھرپور ساتھ دے رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق غزہ کی پٹی میں 2 اشاریہ 3 ملین فلسطینی قحط کا شکار ہیں جن کو فوری مدد نہ ملی تو انسانی المیہ رونما ہوسکتا ہے، رفح بارڈر پر فلسطینی خیمہ بستوں میں مقیم بچے اور عورتیں غذائی قلت کی وجہ سے لاغر نظر آتی ہیں، صاف پانی میسر نہ ہونے کے باعث بچوں میں پیٹ کی بیماریاں عام ہیں۔

مصر اور غزہ بارڈر پر بے بسی کی تصویر بننے فلسطینی ایک طرف  اسرائیلی فوج کے تشدت کا سامنا کررہے ہیں تو دوسری طرف  بھوک اور پیاس سےمقابلہ کررہے ہیں، جنھیں  24 گھنٹوں میں صرف ایک وقت کا کھانا ملتا ہے، جو عام انسان کی غذائی ضرورت کیلئے ناکافی ہے۔

28 فروری 2024ء کو اقوام متحدہ کے عہدیداروں نےبتایا کہ  اسرائیل غزہ میں بے گھر فلسطینیوں تک امداد پہنچانے کے عمل کو منظم طریقے سے روک رہا ہے اور خبردار کیا ہے کہ رفح کی کم از کم ایک چوتھائی آبادی  کو فوری غذائی امداد نہیں ملی تو  قحط اُن سے ایک قدم کے فاصلے پر ہے۔

یہ انتباہ اس وقت سامنے آیا ہے جب شمالی غزہ سے ملنے والی فوٹیج میں دیکھا گیا جس سے واضح ہوا کہ اسرائیلی فوج اس علاقے میں خوراک کی تقسیم کو مختلف طریقوں سے روک رہی ہے جس میں تشدت اور امدادی ٹرکوں کو کئی کئی دن روکنا شامل ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اسرائیل فلسطینیوں کے خلاف بھوک کو ہتھیار کے طور پر استعمال کررہا ہے اور یہ نسل کشی کی ایک بھیانک شکل ہے۔

اسرائیل نے عالمی برادری کی طرف سے فلسطینیوں کیلئے بھیجی جانے والی غذائی امداد کو محدود راہداری دی ہے، جسکی وجہ سے بحران مزید شدت اختیار کرتا جارہا ہے۔

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے برائے خوراک چندی میکین  نے خبردار کیا کہ غزہ قحط کی آخری سطح  سے قبل از وقت دوچار ہے، اقوام متحدہ نے غزہ کی پوری پٹی کو انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی کے تیسرے فیز کی درجہ بندی میں رکھا ہے، جو مارچ کے پہلے ہفتے میں چوتھے فیز میں داخل ہوجائے گی، جس کے باعث اموات کی شرح میں 25 فیصد اضافہ ہوسکتا ہے جبکہ مئی 2024ء میں قحط کی تمام حدیں پوری ہوجائیں گی اور اُس وقت اموات کی شرح 50 فیصد سے زیادہ ہوجائے گی۔

3 جنوری 2024 کو ورلڈ فوڈ پروگرام کے چیف اکانومسٹ عارف حسین نے کہا کہ دنیا میں قحط یا تباہ کن بھوک کا سامنا کرنے والے 80 فیصد لوگ غزہ کی پٹی میں موجود ہیں، غزہ میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوا کیونکہ اسرائیلی بمباری سےخوراک کا ذخیرہ ختم ہو گیا۔

اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے سربراہ مارٹن گریفتھس نے 5 جنوری 2024 کو کہا کہ غزہ کے لوگ سو سال کی ریکارڈ شدہ خوراک کی عدم تحفظ کی بلند ترین سطح کا سامنا کر رہے ہیں، 21 جنوری کو غزہ کی پٹی میں مغربی صحافی نے اپنی ایک رپورٹ  میں کہا کہ لوگ جانوروں کو پیس کراُسکا آٹا بنا رہے ہیں۔

30 جنوری 2024ء کو سی این این نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ غزہ میں فلسطینی خاندان پانی میں گھاس اُبال کر کھانے پر مجبور  ہوچکے ہیں  اور اس سب صورتحال کا عالمی برادری اور مسلم دنیا  مشاہدہ کررہی ہے مگر  بدمست اسرائیل کے خلاف  کچھ بھی کرنے سے گریزاں ہے،غزہ میں قحط سے جان دینے والوں کی تعداد میں ہر روز اضافہ ہورہا ہے مگر امریکہ جنگ بندی کیلئے اقوام متحدہ کی اب تک کی تمام کوششوں کو ناکام بناچکا ہے، امریکہ سلامتی کونسل میں جنگ بندی کیلئے پیش کی جانے والی قراردادوں کو کم ازکم تین مرتبہ  ویٹو کرچکا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق فلسطینی علاقوں کا اسرائیلی محاصرہ اور جارحیت فلسطینی سرزمین کو قحط کی طرف دھکیل رہی ہے، اب بچے اسرائیلی بمباری سے کم اور بھوک سے زیادہ  جاں بحق ہورہے ہیں، شمالی غزہ میں غذائی اجناس کی قلت سب سے زیادہ ہے، جسے اسرائیلی فورسز نے الگ تھلگ کر رکھا ہے اور خوراک کی فراہمی میں شدیدکمی کا سامنا ہے۔

فلسطینی وزارت صحت کے مطابق شمالی غزہ کے کمال عدوان اور الشفا ءکے ہسپتالوں میں غذائی قلت اور پانی کی کمی سے کم از کم 20 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں بچوں کی تعداد زیادہ ہے، مصر اور غزہ کے درمیان واحد زمینی گزرگاہ رفح ہے، جہاں سےکچھ ٹرک امدادی سامان کے ساتھ غزہ داخل ہونے میں کامیاب ہوتے ہیں لیکن 23 لاکھ فلسطینیوں کے لئے یہ امداد انتہائی ناکافی  ہے۔

اقوام متحدہ نے انتباہ کیا ہے کہ اگر امداد کی ترسیل میں بہتری نہ آئی تو غزہ کی ایک چوتھائی آبادی بھوک سے مر سکتی ہے، ایک سینئر ڈاکٹر نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ رفح کے اماراتی ہسپتال میں گزشتہ پانچ ہفتوں کے دوران 16 قبل از وقت پیدا ہونے والے بچے غذائی قلت سے متعلق بیماریوں کی وجہ سے جاں بحق ہو چکے ہیں۔

یاد رہے اسرائیل نے اکتوبر 7 کے بعد غزہ پر حملہ کرنے کے بعد خوراک، پانی، ادویات اور دیگر سامان کا داخلہ بڑے پیمانے پر بند کر رکھا ہے، جس کی وجہ سے حاملہ خواتین اور بچے بڑی تیزی کیساتھ جاں بحق ہورہے ہیں،۔

عالمی برادری قحط کی صورتحال کے تناظر میں غزہ کے انسانی المیے کو روکنے کیلئے عملی اقدام اُٹھائے،  امریکہ  غزہ میں بے بسی کی تصویر بنے ہوئے فلسطینیوں کے بارے میں فکرمندی کا اظہار تو کرتا ہے مگر  حقیقت اس سے بہت مختلف ہے، حالات اور واقعات اس بات کا اشارہ کررہے ہیں کہ قحط کی صورتحال پیدا کرکے فلسطینیوں کی نسل کشی کے منصوبہ سازوں میں امریکی بائیڈن انتظامیہ بھی شریک نظر آتی ہے۔

نوٹ: جی ٹی وی نیوز  اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے اتفاق کرنا ضروری نہیں۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Scroll to Top