پیر، 22-اپریل،2024
( 12 شوال 1445 )
پیر، 22-اپریل،2024

EN

فرانس میں اسقاط حمل کے حقوق آئین میں شامل کرنے کی تیاری

04 مارچ, 2024 16:11

فرانس اپنے آئین میں اسقاط حمل کے حق کو شامل کرنے کے لئے  پیلس آف ورسیلز میں پارلیمنٹ کا ایک تاریخی مشترکہ اجلاس منعقد کرے گا۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی حکومت نے 2022 میں اس اقدام پر زور دینا شروع کیا تھا، جب امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے اقساط حمل پر پابندی عائد کی تھی۔

بدھ کے روز قانون سازوں کی منظوری کے بعد میکرون نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر کہا تھا کہمیں نے خواتین کی اسقاط حمل کی آزادی کو آئین میں شامل کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

آئین میں تبدیلی کو باضابطہ شکل دینے کے لیے پارلیمنٹ کے غیر معمولی اجلاس اور دونوں ایوانوں میں تین تہائی اکثریت سے اس اقدام کی منظوری ضروری ہے۔

دونوں ایوانوں کی جانب سے پہلے ہی اس اقدام کی منظوری دے دی گئی ہے اور توقع ہے کہ آج ورسیلز میں ہونے والے مشترکہ اجلاس میں اس کی منظوری دی جائے گی۔

فرانسیسی سینیٹ نے گزشتہ ہفتے اس وقت راہ ہموار کی جب عام طور پر مرد اور سماجی طور پر قدامت پسند ادارے کے 80 فیصد سے زائد قانون سازوں نے اس  معاملے پر اپنی رضامندی ظاہر کی۔

جنوری کے اواخر میں ایوان زیریں قومی اسمبلی میں یہ بل کثرت رائے سے منظور کیا گیا تھا۔

پارلیمنٹ میں نمائندگی کرنے والی کسی بھی بڑی سیاسی جماعت نے اسقاط حمل کی اخلاقیات پر سوال نہیں اٹھایا، حالانکہ کچھ قدامت پسند قانون سازوں کا کہنا تھا کہ آئین میں ترمیم کی کوئی ضرورت نہیں۔

پارلیمنٹ میں نیشنل ریلی پارٹی کی نمائندگی کرنے والی انتہائی دائیں بازو کی رہنما میرین لی پین نے کہا کہ اس سے کوئی مقصد حاصل نہیں ہوتا کیونکہ کوئی بھی سیاسی تحریک اسقاط حمل پر سوال نہیں اٹھا رہی جب کہ آخر میں لی پین نے اس اقدام کی منظوری کے لئے ووٹ دیا تھا۔

فرانس میں ایک حالیہ سروے کے مطابق 90 فیصد جواب دہندگان اسقاط حمل کے حق کی حمایت کرتے ہیں اور 86 فیصد اسے آئین میں دیکھنا چاہتے ہیں۔

فرانس نے 1974 میں اسقاط حمل کو قانونی حیثیت دی تھی جس کی حمایت وزیر صحت اور خواتین کے حقوق کی علمبردار سیمون ویل نے کی تھی۔

فرانس کا تازہ ترین آئین 1958 سے شروع ہوتا ہے اور چارلس ڈی گال کی صدارت کے ساتھ پانچویں جمہوریہ کا قیام عمل میں آیا۔

فرانس میں اختیاری اسقاط حمل کی مدت 14 ہفتے مقرر کی گئی ہے جو مجوزہ 15 ہفتوں کی ملک گیر پابندی سے کم ہے جس نے امریکہ میں ہنگامہ برپا کر دیا ہے۔

پیرس کی سڑکوں پر اس معاملے پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ 62 سالہ ڈینٹسٹ کیمل گیلی کہتی ہیں کہ ‘فرانس میں اسقاط حمل کسی بھی طرح سے خطرے میں نہیں اور میرے خیال میں یہ میکرون کا محض ایک سیاسی اسٹنٹ ہے۔

پچاس سالہ کورین بوسر اس بات سے متفق نہیں، ان کا کہنا تھا کہ’اسقاط حمل کا حق ایک دن خطرے میں پڑ سکتا ہے، ہم نہیں جانتے، کہ ہماری بیٹیوں اور پوتیوں کو وہی حقوق حاصل ہوں گے جو ہمیں حاصل ہیں۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Scroll to Top