بدھ، 17-اپریل،2024
( 08 شوال 1445 )
بدھ، 17-اپریل،2024

EN

غیر ملکی طلبا کا بھارت میں تعلیم سے کنارہ کشی کرنے کا امکان

18 مارچ, 2024 15:14

آج بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا دعویدار ملک ایک ایسی جگہ بن چکا ہے جہاں اقلیتیں خاص طور پر مسلمانوں کو کوئی مذہبی آزادی حاصل نہیں۔

بھارت میں آئے روز مسلمانوں پر حملوں کے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں، جب کہ گزشتہ روز ہندو انتہا پسند کے ایک گروہ نے احمد آباد میں واقع یونیورسٹی ہاسٹل میں نماز تراویح پڑھنے والے غیر ملکی مسلم طالب علموں پر حملہ کیا۔

مسلمان طالب علموں کی واحد غلطی یہ تھی کہ وہ اپنے ہاسٹل کے صحن میں نماز ادا کر رہے تھے۔ ہندو انتہا پسند کے ہجوم نے گجرات یونیورسٹی کے ہاسٹل پر دھاوا بول دیا اور نماز تراویح ادا کرتے ہوئے غیر ملکی مسلمان طلبا پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں متعدد غیر ملکی طالب علم زخمی ہوئے۔

حملہ آوروں نے افغانستان، ازبکستان، سری لنکا، بنگلہ دیش اور کئی افریقی ممالک سے تعلق رکھنے والے غیر ملکی طالب علموں کی موٹر سائیکلوں کو بھی لوٹ لیا یا توڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا۔

طالب علموں نے میڈیا کو بتایا کہ وہ ہفتہ کی رات نماز تراویح کے لئے بوائز ہاسٹل کے احاطے میں جمع ہوئے تھے کیونکہ یونیورسٹی کیمپس میں کوئی مسجد نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ لاٹھیوں اور چاقوؤں سے لیس ہجوم نے ہم پر حملہ کیا اور ہمارے کمروں میں توڑ پھوڑ کی۔ انہوں نے لیپ ٹاپ، ایئر کنڈیشنر، ساؤنڈ سسٹم توڑ دیے اور ہماری موٹر سائیکلوں کو بھی نقصان پہنچایا۔

یہ بھی پڑھیں: 

غزہ جنگ کے بعد بھارت میں مسلمان مخالف نفرت انگیز تقاریر میں 62 فیصد اضافہ

بھارتی پولیس افسر نماز پڑھنے والے مسلمانوں کو لاتیں مارنے لگا، ویڈیو وائرل

دوسری جانب بھارت کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Scroll to Top