منگل، 23-اپریل،2024
( 13 شوال 1445 )
منگل، 23-اپریل،2024

EN

انسانی دماغ میں کمپیوٹر چپ لگانے کا تجربہ، ایلون مسک کو شدید تنقید کا سامنا

31 جنوری, 2024 14:53

ایلون مسک کی کمپنی نیورالنک نے انسانی دماغ میں پہلی بار کمپیوٹر چپ نصب کرنے کا تجربہ کیا ہے جس پر  سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے  شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

نیورالنک طویل عرصے سے ایسے کمپیوٹر انٹر فیس پر کام کر رہی ہے جو  انسان کے ساتھ کام کرسکتا ہے تاکہ وہ صرف اپنے خیالات کا استعمال کرتے ہوئے مشینوں کے ساتھ بات چیت کرسکے۔

اس سے قبل ایسی کمپیوٹر چپ نصب کرنے کے تجربے صرف جانوروں  پر کیے جاتے تھے مگر گزشتہ روز  ایلون مسک نے اپنی ٹویٹ میں اعلان کیا تھا کہ نیورالنک نے انسان میں پہلی برین چپ لگائی ہے۔

ایلون مسک کا کہنا تھا کہ مریض فالج کا شکار تھا جو اپنے خیالات کے ذریعے اب برین چپ کی مدد سے آلات کو قابو کر سکے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ مریض امپلانٹ کے بعد اب رو بہ صحت ہے اور امپلانٹ کے ابتدائی نتائج مثبت ہیں، چپ کے ذریعے دماغ کے اندر نیورونز کی سرگرمی (نیورون اسپائک) نظر آنے لگی ہے۔

مسک کی اس پوسٹ پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ایک بڑا رد عمل سامنے آیا، جن میں سے کئی افراد نے ممکنہ طور پر بڑی سائنسی ترقی کا حوالہ دینے کے لئے دی میٹرکس جیسی ہالی ووڈ فلموں کا حوالہ دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

ایلون مسک کی کمپنی کا پہلی بار انسانی دماغ میں چپ لگانے کا تجربہ

قواعد کی خلاف ورزی پرایلون مسک کی کمپنی پر جرمانہ عائد

اس کے علاوہ بعض سوشل میڈیا صارفین نے  ان لوگوں کے ممکنہ فوائد پر بھی روشنی ڈالی جو مستقبل میں رسائی کے مسائل کا شکار ہوسکتے ہیں۔

نیورالنک کے شریک بانی اور نائب صدر برائے انجینئرنگ ڈی جے سیو نے اس وقت بلومبرگ کو بتایا: "کمپنی کا قلیل مدتی مقصد دماغ کا ایک عمومی انٹرفیس تیار کرنا اور کمزور اعصابی حالات اور طبی ضروریات کو پورا نہ کرنے والے افراد کے لئے خودمختاری کو بحال کرنا ہے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Scroll to Top