منگل، 28-مئی،2024
( 20 ذوالقعدہ 1445 )
منگل، 28-مئی،2024

EN

کراچی ڈکیٹی انڈسٹری بن گئی، چھینے گئے موبائل دبئی میں فروخت ہونے کا انکشاف

15 اپریل, 2024 14:37

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما علی خورشیدی نے کہا ہے کہ کراچی اربوں کی ڈکیٹی انڈسٹری بن گئی، چھینے گئے موبائل دبئی میں فروخت ہونے لگے ہیں۔

کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان کی رہنما نسرین جلیل اور علی خورشیدی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں ڈکیٹی اربوں کی انڈسٹری بن گئی،کراچی سے چھینے گئے موبائل دبئی میں فروخت ہونے لگے ہیں، کراچی میں پولیس امن قائم کرنے میں ناکام ہوچکی  ہے۔

نسرین جلیل نے کہا کہ ہم لاشیں اٹھا اٹھا کر تھک گئے ہیں، عوام کے غم و غصے کو روکنا ہمارے بس میں نہیں، یہ ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ کس قسم کی حکومت ہے۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے علی خورشیدی نے کہا کہ اسٹریٹ کرائم سے کوئی گلی شاہراہ محفوظ نہیں، اس سال کے تین ماہ میں 59 افراد قتل ہوچکے ہیں، پولیس یہاں بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔

علی خورشیدی کا کہنا ہے کہ وزیر کہتے ہیں کہ ایم کیو ایم خوامخواہ واویلا کر رہی ہے،  700 سے زائد افراد اسٹریٹ کرائمز میں زخمی ہوچکے ہیں،سندھ حکومت کے وزیر کو اپنے بیانات پر معافی مانگنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ 15 سال سے آپ کی حکمرانی ہے اور ملبہ عبوری حکومت پر ڈال دیتے ہیں، سندھ حکومت کے وزیر کو اپنے بیانات پر معافی مانگنی چاہیے۔

ایم کیو ایم کے رہنما کا کہنا ہے کہ کراچی میں روز ہزار سے زائد موبائل فون چھینے جاتے ہیں، بیشتر افراد تھانہ کلچر کی وجہ سے ایف آئی آر نہیں کٹواتے، سال میں 10 ارب اسی کڑور روپے کے موبائل چھینے جاتے ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ جرائم کو روکا نہیں جائے تو پھر ہم سوچتے ہیں کہ کہیں پولیس پشت پناہی تو نہیں کر رہی، ان حالات میں ایم کیو ایم خاموش نہیں رہے گی جلد لائحہ عمل دیں گے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Scroll to Top