منگل، 23-اپریل،2024
( 13 شوال 1445 )
منگل، 23-اپریل،2024

EN

ڈینی موریسن کے انداز میں کرکٹ کمنٹری، آخر یہ پاکستانی نوجوان کون؟

16 مارچ, 2024 11:28

نیوزی لینڈ کے مشہور کرکٹ مبصر اور سابق کرکٹر ڈینی موریسن کی طرح کرکٹ کمنٹری کرنے والے 21 سالہ پاکستانی ہے جو راتوں رات مشہور ہو گیا جب سوشل میڈیا پر ایک شخص نے ان کی کمنٹری کی ویڈیو بنائی اور فوٹیج وائرل ہو گئی۔

وقار بیٹانی کا تعلق شمال مغربی صوبہ خیبرپختونخوا کے لکی مروت کی ایک غریب اور غیر مستحکم آبادی سے ہے لیکن وہ دو عشرے قبل پانچ بہنوں اور چار بھائیوں سمیت اپنے خاندان کے ساتھ صوبائی دارالحکومت پشاور منتقل ہو گئے تھے جہاں وہ اس وقت حیوانیات کی ڈگری حاصل کر رہے ہیں اور بیک وقت دو ملازمتیں کرتے ہیں۔

عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے بیتانی نے کہا کہ ان کے پہلے ویڈیو کلپ کی کامیابی نے انہیں ٹک ٹاک اور انسٹاگرام پر خود اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس قائم کرنے کی ترغیب دی۔

انہوں نے کہا کہ میں نے وہاں ویڈیوز پوسٹ کرنا شروع کیں اور وہ وائرل ہونے لگیں۔

"جب میں بات کرتا ہوں تو میں کہتا ہوں کہ میرا نام ‘ڈینی موریسن لائٹ’ ہے اس لیے میں ان کا لائٹ ورژن ہوں کیونکہ مجھے ان کی کمنٹری پسند ہے اور میرا لہجہ ان ہی کے جیسا ہے۔”

بیٹانی نے کہا کہ لوگوں نے بڑی تعداد میں انہیں بتایا کہ وہ موریسن کی طرح لگتے ہیں: "اس لیے غالباً میں کہوں گا کہ وہ کمنٹری میں میرے آئیڈیل ہیں۔”

انہوں نے کہا کہ جب وہ اسکول جانے والا بچہ تھے، اسی وقت سے انہیں انگریزی بولنے اور اسے بہتر کرنے میں بہت لطف آتا تھا۔

"میں ہر روز اپنی انگریزی دانی کی مہارت کو بہتر کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ اسکول میں میں اپنے اساتذہ اور دوستوں کے ساتھ کبھی کبھار انگریزی میں بات کرتا تھا اور عوام میں اور سوشل میڈیا پر اسے بولنے کا اعتماد حاصل کیا۔”

بیٹانی نے کہا کہ وہ بچپن سے ہی خاصے جنون سے کرکٹ دیکھتے تھے اور ٹیلی ویژن کی کمنٹری بلند آواز میں سنتے تھے جس سے انہیں مبصرین کی نقل کرنے اور مقامی کرکٹ گراؤنڈز میں کمنٹری کرنے کی ترغیب دی۔

"ڈینی موریسن میرے لیے باعثِ تحریک ہیں اور مجھے کمنٹری میں ان کی جارحیت پسند ہے جس کے لیے مختلف کرکٹ لیگز میں دنیا بھر میں ان کی تعریف کی جاتی ہے۔”

بیٹانی نے خود بھی اپنی کمنٹری کے لیے بڑے پیمانے پر پذیرائی حاصل کی ہے اور حال ہی میں انہیں ضلعی سطح کے ٹورنامنٹس میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا، "میں بین الاقوامی کرکٹ کمنٹری باکس اور پی ایس ایل جیسے قومی سطح کے کھیلوں کا حصہ بننے کا منتظر ہوں۔ میں وہاں اپنی جگہ تلاش کروں گا۔”

لیکن مداحوں کی پذیرائی نے ان کی زندگی کے چیلنجز کو آسان نہیں بنایا۔ انہیں اب بھی اپنے خاندان کی کفالت کے لیے کام کرنا ہے جس کی پشاور میں رنگ روڈ کے ساتھ ایک چھوٹی سی دکان ہے۔

حیوانیات کا طالب علم مقامی نجی کالج میں ہفتے میں تین دن کلاسز میں شرکت کرتا ہے اور بقیہ وقت دو ملازمتوں میں گزارتا ہے۔

بیٹانی نے کہا، "میں سنگِ مردار کی فیکٹری میں کام کرتا ہوں جو چین کو برآمدات کرتی ہے۔ دن کے وقت میں وہاں کام کرتا ہوں اور رات کی شفٹ میں میں چوکیدار کے طور پر کام کرتا ہوں۔ یہ میری زندگی ہے۔”

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Scroll to Top