منگل، 16-اپریل،2024
( 07 شوال 1445 )
منگل، 16-اپریل،2024

EN

بھارت میں مسلم مخالف متنازعہ قانون نافذ

12 مارچ, 2024 10:29

بھارتی حکومت نے ملک میں انتخابات سے چند ہفتے قبل 2019 کے شہریت قانون کو نافذ کردیا جس میں مسلمان شامل نہیں ہیں۔

شہریت ترمیمی قانون کے تحت ہندو، پارسی، سکھ، بودھ، جین اور عیسائی شہریت کے اہل ہیں جو 31 دسمبر 2014 سے پہلے افغانستان، بنگلا دیش اور پاکستان سے ہجرت کرکے بھارت آئے تھے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس قانون میں مسلمانوں کو شامل نہیں کیا گیا جو تینوں ممالک میں اکثریت میں ہیں۔

اس قانون کو 2019 میں بھارتی پارلیمنٹ نے منظور کیا تھا تاہم بھارت میں مہلک مظاہروں کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت نے اس پر عمل درآمد روک دیا تھا۔

اس قانون کو انسانی حقوق کی متعدد تنظیموں نے "مسلم مخالف” قرار دیا تھا۔

حکومت کے ایک ترجمان نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ مودی سرکار نے شہریت ترمیمی قانون کے نفاذ کا اعلان کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 

غزہ جنگ کے بعد بھارت میں مسلمان مخالف نفرت انگیز تقاریر میں 62 فیصد اضافہ

بھارتی پولیس افسر نماز پڑھنے والے مسلمانوں کو لاتیں مارنے لگا، ویڈیو وائرل

مودی سرکار نے مذہبی اقلیتوں کو شہریت دینے کے مقصد سے انسانی ہمدردی کے طور پر 2019 کے شہریت قانون کا بار بار دفاع کیا۔

بھارت کی اہم اپوزیشن جماعت کانگریس نے بھی اس اقدام پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ انتخابات سے قبل کا وقت واضح طور پر انتخابات کو پولرائز کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Scroll to Top