پیر، 22-اپریل،2024
( 13 شوال 1445 )
پیر، 22-اپریل،2024

EN

مسلمانوں کا رمضان میں اسرائیلی کھجوروں کا بائیکاٹ

12 مارچ, 2024 14:41

برطانوی مسلمان عام طور پر سپر مارکیٹ کے لیبل کا جائزہ لیتے ہیں تاکہ یہ بات یقینی بنائی جاسکے کہ خریدی گئی اشیا حلال ہیں جب کہ وہ یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ ان کی کھجوریں کہاں اگائی جارہی ہیں۔

مسلمان عام طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی روایت کی پیروی کرتے ہوئے اس میٹھے پھل سے اپنا روزہ افطار کرتے ہیں۔

عرب نیوز کے مطابق اس سال غزہ کی جنگ کے پس منظر میں برطانوی مسلمان اسرائیلی کھجوریں خریدنے سے گریز کرنا چاہتا ہیں۔

فرینڈز آف الاقصیٰ (ایف او اے) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ مبینہ طور پر یورپ میں اسرائیلی کھجوروں کا دوسرا سب سے بڑا درآمد کنندہ ہے اور اس نے 2020 میں اس نے اسرائیل سے تین ہزار ٹن سے زائد کھجوریں درآمد کیں جن کی مالیت تقریبا 75 لاکھ پاؤنڈ (96 لاکھ ڈالر) بنتی ہے۔

14 سال سے زائد عرصے سے ایف او اے کا ادارہ#CheckTheLabel  بائیکاٹ مہم چلا رہا ہے تاکہ ان صارفین میں شعور بیدار کیا جا سکے جو نادانستہ طور پر اسرائیلی کھجوریں خریدتے ہیں۔

اس مہم میں رمضان کے دوران مسلمانوں کی توجہ دلائی جاتی ہے۔ اس مہینے میں یورپ کے اندر اسرائیلی کھجور کی فروخت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

اپنی مہم کے ایک حصے کے طور پر، وکالت کرنے والے گروپ نے مقامی مساجد کے اماموں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ مقدس مہینے کے دوران اپنے خطبات میں بائیکاٹ پر بات کریں۔

ایف او اے سے وابستہ شامی الجردر نے کہا کہ ’رمضان میں مساجد اتحاد کا پیغام پھیلانے اور لوگوں کو خریداری سے قبل اخلاقی تحفظات اور اقدار کو مد نظر رکھنے کی ترغیب دینے کے لیے بہت اہم ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اس مہم کو ہمیشہ بہت اچھی پذیرائی ملی ہے۔ کوئی بھی جان بوجھ کر اسرائیلی کھجوروں سے اپنا روزہ نہیں کھولنا چاہتا، ایسی مصنوعات سے جو چوری شدہ زمین پر غیر قانونی قبضے کو برقرار رکھنے میں مدد کرتی ہیں۔‘

اسرائیل کے غیر قانونی قبضے نے بہت سے فلسطینیوں کو بستیوں کے کھیتوں پر ہتک آمیز حالات میں کام کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ نے اسرائیلی کھجور کی صنعت میں فلسطینی مزدوروں کے استحصال کو دستاویزی شکل دی ہے، جن میں 11 سال تک کی عمر کے بچوں کو نقصان دہ کیڑے مار ادویات کا سامنا کرتے ہیں اور خواتین سخت حالات میں طویل دورانیے تک مشقت کرتی ہیں۔

برطانیہ میں بائیکاٹ کی تحریک نے گذشتہ برسوں میں زور پکڑا ہے، خاص طور پر غزہ پر اسرائیل کی وحشیانہ جارحیت کے تناظر میں، جس میں اکتوبر 2023 سے اب تک 30 ہزار سے زیادہ افراد جان سے گئے ہیں۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Scroll to Top