بدھ، 24-اپریل،2024
( 15 شوال 1445 )
بدھ، 24-اپریل،2024

EN

بانی پی ٹی آئی سے جیل میں ملاقاتوں پر پابندی، سازش کی بو آرہی ہے

13 مارچ, 2024 17:15

پاکستان میں جیلوں کی سکیورٹی کو بنیاد بناکر اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی عمران خان سے دو ہفتوں تک ملاقاتوں پر پابندی عائد کردی ہے۔

اس اقدام کو مریم نواز کے وزیراعلیٰ بننے کے بعد اُن کا انتقامی اقدام تصور کیا جارہا ہے، اس سے قبل پنجاب پولیس کی طرف سے بتایا گیا تھا کہ اڈیالہ جیل کے قریب سے افغانستان سے آئے ہوئے چند دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا تھا، جن کو نامعلوم مقام پر منتقل کرکے تفتیش جاری ہے۔

عام طور پر یہ بات سمجھی گئی تھی کہ دہشت گردوں کی گرفتاری اور تفتیش کی روشنی میں ملاقاتوں پر پابندی عائد کی گئی ہے لیکن پی ٹی آئی اور عمران خان کے ہمدردوں کو دال میں کچھ کالا نظر آرہا ہے، واقفِ حال بتاتے ہیں کہ عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی لگانے سے قبل دہشت گردوں کی گرفتاری کا ڈرامہ رچایا گیا ہے اور اس ڈرامے کی پروڈیوسر ڈرامہ کوئن ہیں۔

مریم نواز جب سے وزیراعلیٰ بنی ہیں وہ روزآنہ کی بنیاد پر ٹیلی فلم تیار کرتی ہیں اور سوشل میڈیا کی زینت بناتی ہیں، بچارے یہ لوگ ابھی تک 80 کی دہائی میں جی رہے ہیں، انہیں معلوم ہی نہیں کہ عوام کو باشعور ہوچکی ہے۔

پاکستان کے عوام عصبیت اور تفرقہ پردازی کو مسترد کرچکے ہیں، عمران خان نے عوام دشمنوں اور عوام دوستوں میں فرق اچھی طرح بتادیا ہے، پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز کی ایما پر عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی کے اثرات بقیہ قیدیوں پر بھی پڑیں گے، یہ قیدیوں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

چیف جسٹس فائز عیسیٰ کو اس معاملے پر ضرور نوٹس لینا چاہیئے، محکمہ داخلہ پنجاب نے آئی جی جیل خانہ جات نے اڈیالہ جیل کے تمام قیدیوں بشمول عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجے گئے افراد پر 2 ہفتوں کے لئے ملاقات اور جیل وزٹ پر پابندی عائد کرنے کے احکامات جاری کردئیے اور میڈیا کوریج پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔

جس وقت عمران خان کو سکیورٹی خدشات کو بنیاد بناکر ملاقاتوں سے روکا گیا ہوگا اُس وقت پاکستان میں اہم دو اہم اشوز چل رہے ہونگے ایک کا تعلق سینیٹ الیکشن سے ہے اور دوسرے کا 14 فروری کو آئی ایم ایف کے جائزہ مشن کا پاکستان پہنچنے سے ہے۔

اِن پابندیوں کی وجہ سے سینیٹ انتخابات میں اُمیدواروں کو فائنل کرنے کے عمل سے عمران خان باہر رکھا جائیگا جو انتخابی دھاندلی کا دوسرا دور ہوگا، 14 فروری کو آئی ایم ایف کا وفد پاکستان کے معاشی اور سیاسی حالات کا جائزہ لینے کیلئے اسلام آباد پہنچ رہا ہے، جولائی 2023ء میں آئی ایم ایف کا وفد اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ کے تحت ٓایک اشاریہ ایک ارب ڈالر کا قرضہ دینے کیلئے پاکستان میں مذاکرات کررہا تھا۔

رجیم چینج کے نتیجے میں برسراقتدار وفاقی حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان قرض پروگرام کیلئے معاہدے کی حمایت کیلئے آئی ایم ایف وفد نے عمران خان سے ملاقات کی، سابق وزیراعظم نے سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر پاکستان کو قرض فراہم کرنے کی حمایت کی اور ساتھ ہی انھوں نے آئی ایم سے یقین دہانی چاہی کہ ملک میں دھاندلی سے پاک انتخابات کیلئے آئی ایم ایف حکومت پاکستان پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرئے گی، اُس وقت ریاستی ادارے ملک میں انتخابات کرانے کے موڈ میں نہیں تھے نیز عمران خان کو اندیشہ تھا کہ موجودہ الیکشن کمیشن دھاندلی سے پاک الیکشن کرانے میں ناکام ہوگا۔

پاکستان میں الیکشن تو کرائے گئے لیکن تحریک انصاف کو انتخابی عمل سے کردیا گیا اس کے باوجود عمران خان کے حمایت یافتہ اُمیدواروں کی اچھی خاصی تعداد منتخب ہوگئی تو اُن کا مینڈیٹ چوری کرلیا گیا راتوں رات چوری شدہ مینڈیٹ پیپلزپارٹی، ایم کیو ایم اور مسلم لیگ(ن) میں تقسیم کیا گیا اور بڑی مشکل سے 91 اُمیدوار قومی اسمبلی میں پہنچنے میں کامیاب ہوئے لیکن  9 مئی دھاندلی کا عمل جو شروع ہوا تھا وہ مخصوص نشستوں سے محروم کرنے کی صورت میں جاری رہا۔

توقع کی جاسکتی ہے کہ موجودہ نظام سینیٹ کے انتخابات میں بھی تحریک انصاف کیساتھ دھاندلی کا سلوک جاری رکھے گا، ویسے پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گزر چکا ہے بڑی تبدیلی کی توقع نہیں ہے لیکن دھاندلی سے پاک انتخابات کرانے کی آئی ایم ایف کی یقین دہانی پر سوال اُٹھایا جاسکتا ہے، جس کیلئے عمران خان کی ایماء پر رؤف حسن نے آئی ایم ایف کو خط بھی لکھا ہے۔

عالمی پریس چیخ چیخ کر پاکستان کے دھاندلی زدہ انتخابات کی نشاندہی کررہا ہے تو ایسے حالات میں عمران خان کا متحرک ہونا موجودہ نظام کیلئے خطرہ ثابت ہوگا لہذا عمران خان کی ملاقاتوں پر پابندی عائد کرکے پورے ماحول کو بدلنے کی کوشش کی  جارہی ہے مگر اس میں ملک کیلئے خیر کی کوئی بات نظر نہیں آتی، ملک کو ڈرامے کا اسٹیج بنادیا ہے اور ہر ادارہ ڈرامہ کیا جارہا ہے۔

نوٹ: جی ٹی وی نیوز  اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے اتفاق کرنا ضروری نہیں۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Scroll to Top