بدھ، 17-اپریل،2024
( 08 شوال 1445 )
بدھ، 17-اپریل،2024

EN

پاک فوج سے سینئر افغان افسران کو نکالے جانے کا انکشاف

19 مارچ, 2024 14:29

وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے بطور وزیر دفاع دو تین ایسی فائلیں دستخط کیں جن میں ’لیفٹیننٹ‘ اور ’کیپٹن‘ رینک کے افغان شہریوں کو فوج سے نکالے جانے کا انکشاف کیا ہے۔

جیو اور ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ  دہشتگرد اس وقت افغان سرزمین میں مقیم ہیں، سوائے ان تین چار ہزار کے جن کو بانی پی ٹی آئی لائے تھے، اس کے لیے قومی اسمبلی کو بریفنگ بھی دی گئی تھی، 2022 کی بات ہے، اس کے بعد مزید نہیں آئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تحریک طالبان پاکستان کو لانے معاشی تباہی اور نوازشریف کو فارغ کرنے پر پوچھنا چاہیے، جنرل (ر) باجوہ ، سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید اور بانی پی ٹی آئی پارلیمنٹ کو جواب دیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ کوئی نئے اصول طے نہیں کرنا چاہتے، جو ماضی گزرا ہے 30،40 سال کا اسے کلین بریک کیا جائے۔

وزیر دفاع کا کہنا تھاکہ گھر ہم بہت دفعہ گئے ہیں، گھراور جیل کاراستہ پتا ہے،ملک کی قسمت کا فیصلہ کرنے والے یہ کون ہوتے ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلو چ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آپریشن کا بنیادی ہدف حافظ گل بہادر گروپ سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد تھے جو ٹی ٹی پی کے ساتھ مل کر پاکستان کے اندر متعدد دہشت گرد حملوں کا ذمہ دار ہے جس کے نتیجے میں سیکڑوں شہری اور قانون نافذ کرنے والے اہلکار شہید ہوئے، تازہ ترین حملہ 16 مارچ 2024 کو شمالی وزیرستان میں میر علی میں ایک سیکورٹی پوسٹ پر ہوا اور اس میں 7 پاکستانی فوجی شہید ہوئے۔

دوسری جانب امریکی وزارت خارجہ کے نائب ترجمان ویدانت پٹیل نے کہا امریکا پرعزم ہے کہ افغانستان دوبارہ کبھی دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہ بنے، ہم یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ جب آپریشن کیے جا رہے ہوں تو شہری متاثر نہ ہوں۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Scroll to Top