منگل، 28-مئی،2024
( 20 ذوالقعدہ 1445 )
منگل، 28-مئی،2024

EN

کراچی کے 3 کروڑ شہریوں کیلئے 16 کروڑ درختوں کی ضرورت ہے، ماحولیاتی ماہرین

21 اپریل, 2024 17:58

ماحولیاتی تبدیلیوں کے سنگین اثرات کا مقابلہ کرنے کیلئے عوام میں شعور پیدا کرنا ناگزیر ہے، پلاسٹک شاپرز ماحول کو تباہ کر رہے ہیں، ’کراچی کے شہریوں کی آکسیجن کی ضرورت کیلئے 16 کروڑ درخت اگانا ضروری ہیں‘۔

ان خیالات کا اظہار ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی کی صوبائی سیکریٹری نبیلہ عمر، پروفیسر رفیع الحق، فرزانہ نسیم اور ماحولیاتی صحافی شبینہ فراز  نے کراچی میں داؤدی بوہرہ کمیونٹی کی ماحولیاتی تنظیم نظافت آرگنائزیشن اور انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کے اشتراک سے ماحولیاتی آگہی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیمینار ارتھ ڈے کی مناسبت سے منعقد کیا گیا تھا۔

جی ٹی وی ڈیجیٹل کے مطابق صوبائی سیکریٹری برائے ماحولیات سندھ، موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی میڈم نبیلہ عمر نے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پلاسٹک کے استعمال میں کمی کے لیے پلاسٹک کے نقصانات کے متعلق نچلی سطح تک آگہی پیدا کرنا ہوگی۔

موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی کی صوبائی سیکریٹری نبیلہ عمر خطاب کررہی ہیں
موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی کی صوبائی سیکریٹری نبیلہ عمر خطاب کررہی ہیں

انہوں نے کہا کہ چھوٹے چھوٹے کاموں سے بڑی تبدیلی لائی جاسکتی ہے، محکمہ ماحولیات بوہرہ برادری کے ساتھ مل کر عوام میں ماحولیاتی شعور پیدا کرنے کیلئے مزید سرگرمیاں کرتا رہے گا۔ ماحولیات کے متعلق آگہی سیمینار کرانے پر بوہرہ کمیونٹی مبارکباد کی مستحق ہے۔

ادارہ تحفظ ماحولیات سندھ کے تکنیکی ڈائریکٹر وقار حسین پھلپوٹو نے کہا کہ پانی کی بچت کے لیے ضروری ہے کہ ہر فرد پانی کی اہمیت کا اندازہ اس کی قیمت نہیں بلکہ اس کی محدود مقدار سے لگائے جسے بڑھایا ہر گز نہیں جاسکتا بلکہ دنیا میں جتنی مقدار اس کی ہے اسی میں گزارا کرنا ہے۔

پاکستان میں ری سائیکلنگ کی صنعت کو درپیش چیلنجوں پر سیپا کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر فرزانہ نسیم نے معلومات پر مبنی پریزینٹیشن پیش کی۔

سیپا کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر فرزانہ نسیم کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ری سائیکلنگ کی صنعت بدستور ابتدائی مرحلے میں ہے، ری سائیکلنگ کی صنعت نہ پھلنے پھولنے کی وجہ عوامی شراکت کا فقدان ہے، جب تک عوام ری سائیکلنگ کے قابل کچرے کو علیحدہ نہیں کریں گا تب تک کچھ نہیں بدلنے والا۔

سیپا کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر فرزانہ نسیم آلودگی سے متعلق پریزینٹیشن پیش کر رہی ہیں
سیپا کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر فرزانہ نسیم آلودگی سے متعلق پریزینٹیشن پیش کر رہی ہیں

 ماحولیاتی صحافی شبینہ فراز کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ پلاسٹک کی روک تھام خاتون خانہ کی آمادگی کے بغیر ممکن نہیں اور یہ کہ پابندی کا نفاذ اور عوامی شعور کے ذریعے مرحلہ وار پلاسٹک کے استعمال کو کم کیا جاسکتا ہے۔

ماہر شجریات پروفیسر رفیع الحق نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کی تقریب کا ائیر کنڈیشن سے نکلنے والی گیس سی ایف سی  سے پاک ماحول میں ہونا عوامی شعور میں اضافے کا عکاس ہے۔

ماہر شجرکاری رفیع الحق درختوں کی افادیت پر گفتگو کر رہے ہیں
ماہر شجرکاری رفیع الحق درختوں کی افادیت پر گفتگو کر رہے ہیں

ان کا کہنا تھا کہ بے موسم شجرکاری سے مطلوبہ نتائج نہیں مل سکتے۔ پائیدار افزائش کے لیے مقامی پودے لگانا ضروری ہے۔شجرکاری میں حاکمانہ نہیں بلکہ خادمانہ طرز عمل چاہئے یعنی پودا لگا کر درخت بننے تک اس کی آبیاری کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ ایک فرد کو چار درخت کے برابر آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے، کیا کراچی میں اسٹیک ہولڈرز نے دو کروڑ شہریوں کیلئے 16 کروڑ درخت اگائے ہیں؟

تقریب صحافیوں، سیپا ملازمین سمیت سوشل سیکٹر کے اراکین کی شرکت
تقریب صحافیوں، سیپا ملازمین سمیت سوشل سیکٹر کے اراکین کی شرکت

دوسری جانب بوہرہ کمیونٹی کی ماحولیاتی تنظیم نظافت آرگنائزیش کے رکن مرتضیٰ جیتپوری نے ماحولیات کے حوالے سے تنظیم نظافت کے اغراض و مقاصد سے حاضرین مجلس کو آگاہ کیا۔

نظافت آرگنائزیش کے کوآرڈینیٹر علی اصغر نے بھی تقریب سے خطاب کیا اور اپنی تنظیم کی جانب سے تحفظ ماحولیات کے لیے حکومت کو ہر ممکن تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ نظافت تنظیم ماحولیات کے تحفظ کے لیے اسی طرح کے شراکتی پروگرامات مستقبل میں بھی کرتی رہے گی۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Scroll to Top