پیر، 22-اپریل،2024
( 12 شوال 1445 )
پیر، 22-اپریل،2024

EN

انسٹا گرام اور فیس بک پر روزانہ 100،000 بچے جنسی ہراسانی کا شکار

19 جنوری, 2024 19:44

میٹا عدالت میں بچوں کی آن لائن جنسی ہراسانی کو بچانے کیلئے ٹھوس کوششوں میں ناکام رہا ہے، عدالت میں جمع کیے جانیوالی دستاویزات کے انسٹاگرام پر بچوں کی حفاظت کیلئے ناکافی اقدامات کیے گئے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق فیس بک اور انسٹاگرام پر روزانہ تقریبا 100،000 بچے آن لائن جنسی ہراسگی کا سامنا کرتے ہیں۔

عرب نیوز کے مطابق امریکی ریاست نیو میکسیکو کے اٹارنی جنرل راول ٹوریز نے دسمبر میں فیس بک اور انسٹاگرام کے مالک ادارے میٹا پر مقدمہ دائر کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی نوجوان صارفین کو بچوں کے جنسی استحصال کے مواد کی نمائش سے بچانے میں ناکام ہے۔

مقدمے کی کارروائی میں غیر ترمیم شدہ اقتباسات 2020 اور 2021 کے اندرونی ملازمین کے پیغامات اور دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ Meta ان مسائل سے آگاہ تھا، جیسے بالغ اجنبیوں کا انسٹاگرام پر بچوں سے رابطہ کرنے، اس پلیٹ فارم پر نابالغوں کی جنسی زیادتی، اور لاحق خطرات، مگر ان مسائل کو حل کرنے کیلئے میٹا موثر اقدامات سے قاصر رہا، عدالتی دستاویز کمپنی کی ہچکچاہٹ کی پالیسی کو واضح کرتی ہے۔

جولائی 2020 کی ایک دستاویز میں بعنوان "چائلڈ سیفٹی – اسٹیٹ آف پلے (7/20)”، میٹا نے "فوری پروڈکٹ کی کمزوریوں” کو درج کیا جو بچوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، عدالت میں پیش ہونیوالے رپورٹ میں بتایا گیا کہ میٹا نے تیز ترین ترقی کے لیے بچوں کی حفاظت کی قربانی دی۔

مارچ 2021 میں، اگرچہ، انسٹاگرام نے اعلان کیا کہ وہ 19 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کو نابالغوں کو پیغام رسانی سے روک رہا ہے، جب جولائی 2020 میں میٹا کے ایک کارکن سے پوچھا گیا کہ ہم بچوں کی گرومنگ کیلئے کیا کر رہے ہیں، کچھ ایسا جیسا TikTok پر بہت ہو رہا ہے، تو اس کارکنان کا جواب تھا کہ کہیں صفر اور نہ ہونے کے برابر۔

مقدمے میں کہا گیا ہے کہ انسٹاگرام نابالغوں کی پوسٹس کے تحت نامناسب تبصروں کے مسئلے کو حل کرنے میں بھی ناکام رہا ہے۔

میٹا کے سابق انجیئرنگ ڈائریکٹر آرٹورو بیجر جو کہ آن لائن ہراسانی سے حفاظت کے ماہر جانے جاتے ہیں، انہوں نے گواہی میں انسٹا گرام پر اپنی بیٹی کیساتھ ہونیوالے پریشان کن واقعات کا تذکرہ بھی کیا۔

یہ بھی پڑھیں: برطانیہ میں ’ورچوئل جنسی زیادتی‘ کا پہلا کیس رپورٹ

انہوں نے نومبر میں امریکی سینیٹرز کے ایک پینل کو بتایا میں آج آپ کے سامنے ایک والد کے طور پر ایک ایسے بچے کے تجربے کے ساتھ حاضر ہوں جس نے انسٹاگرام پر ناپسندیدہ جنسی مواد دیکھا اور اپنے دوستوں کو خوفناک تجربے سے آگاہ کیا۔

میٹا نے کہا کہ وہ جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کرتا ہے، بچوں کی حفاظت کے ماہرین کی خدمات حاصل کرتا ہے، گمشدہ اور استحصال شدہ بچوں کے لیے قومی مرکز کو مواد کی اطلاع دیتا ہے اور مذموم عناصر کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے میں مدد کے لیے ریاستی اٹارنی جنرل سمیت دیگر کمپنیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ معلومات اور آلات کا اشتراک کرتا ہے اور اسے جڑ سے اکھاڑنے کیلئے پرعزم ہے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Scroll to Top